شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 305
305 میں کوئی مخالفت خواہ وہ بڑے بڑے ملاؤں یا پیروں کی طرف سے ہو برداشت نہیں کرے گا۔افغانستان کے جشن آزادی اور لوئی جرگہ کے انعقاد کا فیصلہ افغانستان اب اپنی حکومت کے دس سال پورے کر چکا تھا اور اس کا گیارھواں جشن استقلال پغمان میں منایا جانے والا تھا بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس موقعہ پر تمام افغانستان سے لوئی جرگہ بھی بلایا جائے اور اس میں اصلاحات کا اعلان بھی کر دیا جائے۔صوبوں کی حکومتوں کو ہدایات ارسال کی گئیں کہ وہ مناسب اشخاص کو جرگہ میں بطور وکیل یا نمائندہ شامل ہونے کے لئے نامزد کریں اور ان کی فہرستیں مرکزی حکومت کو برائے منظوری بھجوائیں۔لوئی جرگہ میں شامل ہونے والے نمائندگان کے استقبال اور قیام کا بہت اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا نمائندگان کی تعداد کئی سو تھی ان سب کے لئے یورپین طرز کے لباس اور بُوٹ مہیا کئے گئے تھے ان کے لئے مہمان نواز مقرر تھے اور کھانے اور فواکہات کا بہت عمدہ انتظام تھا۔مناسب جیب خرچ کی رقم ان کو روزانہ دی جاتی تھی۔اور سرکاری موٹروں پر سیر و تفریح کروائی جاتی تھی۔امیر امان اللہ خان کی طرف سے ان اقدامات کا مقصد تو واضح تھا کہ ان نمائندگان میں ایسی جماعت پیدا کی جائے جو امیر کی جدید اصلاحات کی تائید وحمایت کرے۔لیکن ہوا یہ کہ وہ نمائندگان جو حاضر تھے امیر کی موجودگی میں تو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اس کے اقدامات کی تائید کرتے رہے اور جب جر گہ سے فارغ ہو کر اپنے علاقوں میں پہنچے تو امیر امان اللہ کے خلاف دہریت اور لامذہبیت کے الزامات لگا کر عوام کو اس کے خلاف اکسانے لگے ان کے اس طریق عمل کی وجہ بعض وزراء حکومت کا رویہ بھی تھا جو بوجوہ امیر امان اللہ سے ناراض تھے ان کو وزارتوں اور عہدوں کی تقسیم پر جوامیر نے کئے تھے اعتراض تھا کیونکہ اس میں ان کے ذاتی اقتدار اور حقوق پر زد پڑتی تھی ان میں با ہم بھی رنجش تھی اور بادشاہ سے بھی ناراضگی تھی۔اس وجہ سے یہ وزراء بھی نمائندگان لوئی جرگہ کو الٹے سیدھے