شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 302 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 302

302 کہ اپنی قوم کو اپنی سیاحت بیرون کے بارہ میں مطلع کرے۔یورپین ممالک کے بارہ میں اپنے تاثرات بتائے اور جو اصلاحات وہ اپنے ملک میں جاری کرنا چاہتا تھا ان سے متعارف کروائے۔مختلف استقبالیہ تقریبات کے دوران بادشاہ نے پانچ دن تک ایک لمبی تقریر کی جس میں ان ممالک میں ہونے والے واقعات کا تذکرہ کیا جہاں اسے جانے کا موقعہ ملا تھا اور ان اصلاحات کا تذکرہ کیا جن کو وہ جاری کرنا چاہتا تھا تقریر کے آخر میں امیر امان اللہ نے ایک سپاہی ، ایک سرکاری افسر، ایک عام شہری اور ایک طالب علم سے سب کے سامنے معانقہ کیا یہ افراد جن سے معانقہ کیا گیا ان کا انتخاب کر کے گویا اس نے اپنی تمام رعایا کے نمائندگان کو ملحوظ رکھا۔قدامت پسند ملاؤں اور نئی اصلاحات کے خُوگر امیر امان اللہ خان کے مابین تنازعات امیر امان اللہ خان کے سفر یورپ کے دوران افغانستان کے ملا امیر کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے اگر چہ ان کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ کوئی شورش بر پا کر سکیں اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ خوست کی بغاوت کے بعد سمت جنوبی کے ملاؤں کا زور توڑ دیا گیا تھا اور ان کے لیڈروں کو عبرتناک سزائیں دی گئی تھیں۔جب امیر امان اللہ خان واپس آیا تو ملاؤں کو معلوم ہو چکا تھا کہ ملکہ ثریا صاحبہ سیاحت یورپ کے دوران پردہ کے اس معیار پر قائم نہیں رہی تھیں جو ملا ؤں کے خیال میں اسلام کی تعلیم اور قرآنی شریعت کے مطابق ہر مسلمان عورت کے لئے لازمی ہے اور اس وجہ سے وہ امیر امان اللہ خان سے ناراض تھے۔افغانستان میں آنے کے بعد بھی ملکہ ثریا صاحبہ کے بارہ میں یہ رپورٹیں ملتی رہتی تھیں کہ وہ مغربی طرز کی پارٹیوں میں شامل ہوتی ہیں جن میں غیر مرد بھی ہوتے ہیں اور ان موقعوں پر ان کا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔