شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 301
301 مصطفیٰ کمال اتاترک کیا اعلیٰ حضرت کی سلطنت کے تعلقات ہمسایہ حکومتوں سے خوشگوار ہیں اور وہ بغاوت کی صورت میں آپ کی حکومت کے خلاف ریشہ دوانیوں میں تو مصروف نہ ہو جائیں گے۔امیر امان اللہ خان مجھے اس امر پر یقین و تسلی ہے ایسی صورت میں انگریز اور روس دونوں ہی اپنے معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے کوئی معاندانہ رویہ اختیار نہ کریں گے۔مصطفی کمال اتاترک: جب یہ ساری صورتیں اعلیٰ حضرت کی موافقت میں ہیں تو بسم اللہ میرا مشورہ یہی ہے کہ اپنے ملک میں اصلاحات نافذ کیجئے۔ترکیہ میں اصلاحات کو کبھی بھی خوش آمدید نہیں کہا گیا بلکہ ہم نے بہ نوک سنگین ان کو جاری کیا ہے کسی ملک کے باشندے اپنے پرانے عقائد و خیالات ورسم ورواج کی پابندیوں کو از خود خیر باد نہیں کہا کرتے۔تا آنکہ حکومت ان پر جبر وقوت استعمال نہ کرے۔- معلوم ہوتا ہے کہ مصطفیٰ کمال اتاترک سے مشورہ کے بعد امیر امان اللہ خان پہلے سے زیادہ اپنے اس عزم میں مضبوط ہو چکا تھا کہ ان اصلاحات کو جو وہ جاری کرنا چاہتا تھا اگر ضرورت پڑے تو بزور قوت جاری کرے گا اور مخالفت کی پرواہ نہ کرے گا۔(۸۲) امیر امان اللہ خان کی وطن واپسی اور افغانستان میں اپنے سفر اور مجوزہ اصلاحات کے بارہ میں بیانات ۱۹۲۸ء میں امیر امان اللہ خان ایران سے براستہ مشہد و ہرات افغانستان میں داخل ہوا۔کابل میں اس کے آنے کی خوشی میں تین دن تعطیل کی گئی اور شاندار استقبال کیا گیا۔چراغاں اور دعوتوں کا اہتمام تھا کیونکہ افغان بادشاہ تاریخ میں پہلی دفعہ اتنے یورپین ممالک کی سیاحت کر کے آیا تھا اور اُسے بہت سی باتوں میں حسبِ خواہش کا میابی اور کامرانی حاصل ہوئی تھی اس وجہ سے اہالیان کا بل نے یہ خوشی کا موقعہ بہت زور شور سے منایا۔افغانستان میں ایک لمبے سفر سے واپسی کے بعد ا میر امان اللہ خان کی طبعی خواہش تھی