شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 303
303 ملاؤں کا ایک وفدا میر امان اللہ خان کو ملا اور انہوں نے اس امر پر احتجاج کیا کہ ملکہ صاحبہ اور دوسری مسلمان خواتین جو ان کے ساتھ ہوتی ہیں وہ غیر مردوں کے سامنے اپنا چہرہ ظاہر کرتی ہیں جب کہ اس کا ڈھانپنا ضروری ہے۔بادشاہ نے جواب دیا کہ افغانستان کے دیہات میں اس قسم کا پردہ نہیں ہوتا جیسا ملاؤں کے نزیک مسلم خاتون کے لئے کرنا ضروری ہے۔ملاؤں نے جواب دیا کہ دیہات کی غریب عورتوں کو نقاب ترک کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں کام کرنا پڑتا ہے۔اس پر امیر امان اللہ خان نے جواب دیا کہ جب دیہات کی عورتیں نقاب لینے لگیں گی تو ملکہ بھی نقاب اوڑھ لے گی۔بادشاہ کے اس جواب پر ملا بہت جزبز ہوئے اور نا راضگی کی حالت میں چلے گئے۔یورپ کی سیاحت اور مصطفیٰ کمال اتاترک کی ملاقات کے بعد امیر امان اللہ خان پہلے سے زیادہ اصلاحات کے بارہ میں اپنے عزم میں پختہ ہو چکا تھا یور بین رابطہ سے اس کے اپنے خیالات میں ایک عظیم تغیر آگیا تھا اب وہ معاملات ملکی کو کسی اور انداز میں دیکھنے لگا تھا یورپ نے بطور مہمان کے اس کا جس رنگ میں استقبال کیا تھا اس کا قدرتی طور پر اس کی ذات پر یہ اثر پڑا کہ وہ اپنے آپ کو پہلے سے بہت زیادہ ذہین قابل اور صائب رائے والا سمجھنے لگا تھا اور ملک کی ترقی اور اصلاحات کے بارہ میں جو خیالات اور تجاویز اس کے ذہن میں تھیں اب وہ اس کی نگاہ میں اٹل اور نا قابل ترمیم قرار پا چکی تھیں اور ان کے خلاف کوئی ا مرسننا پسند نہیں کرتا تھا۔ان دنوں میں اس نے وزارت خارجہ میں ایک تقریر کرتے ہوئے اپنے بارہ میں بیان کیا کہ وہ ایک انقلابی بادشاہ ہے اور اپنے ملک کی اصلاحی مہم کو انقلابی جد و جہد کے ساتھ مکمل کرے گا۔ایک موقعہ پر وزارت حربیہ میں اس نے نوجوان فوجی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس ملک میں جس انقلاب کے دیکھنے کا خواہش مند ہوں اگر ضرورت پڑی تو تمہاری سنگینوں کے زور سے پیدا کیا جائے گا۔ملک کے ملاؤں کے متعلق امیر امان اللہ خان