شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 276
276 وو حدیث شریف میں آیا ہے کہ آدمی کا دل مقلب القلوب کی انگلیوں میں ہے۔ایسی بے بسی کی حالت کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لكم دينكم ولى دين تمہارے لئے تمہارا دین میرے لئے میرا دین کابل کی سلطنت میں آخر ہندو بھی تو بستے ہیں عیسائی بھی وہاں جا کر رہتے ہیں۔کسی کے عقائد مذہبی سے کچھ تعرض نہیں کیا جا تا۔۔۔خود اعلیٰ حضرت امیر صاحب کابل نے تخت نشینی کے موقع پر اپنی سلطنت میں ہر قوم کو پوری مذہبی آزادی دینے کا بڑے زور سے اعلان فرمایا تھا۔ایسے اعلان کے بعد اس قسم کے دردناک واقعہ کا ظہور میں آنا بے انتہا افسوس کی بات ہے۔احمدی فرقے کے مسلمان بالعموم دیندار ، امن پسند ، مرنج و مرنجاں لوگ ہیں۔عقائد میں ان کا ہم سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مگر اسلام کی خدمت جو یہ لوگ کر رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ خدمت ہم مسلمانوں کے کسی اور فرقے سے نہیں ہو سکتی۔ملکانہ راجپوتوں میں فرائض تبلیغ جس خوبی سے ان خادمان دین نے ادا کئے ہیں وہ اب تک کسی دوسرے فرقے سے ادا نہیں ہو سکے۔پھر ان خدمات کے علاوہ انگلستان اور امریکہ میں احمدی فرقے کے مبلغین خدمات اشاعت اسلام کے باب میں بالکل منفرد ہیں۔یہ خدمات مسلمانوں کے اور کسی فرقے سے نہیں ہو سکیں اور اب کوئی کرے گا تو انہیں کی تقلید کرنے والا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو ثواب ان نیک بندوں کی مساعی جمیلہ کے لئے لکھا گیا ہو گا وہ اب دوسروں کو ملنا مشکل ہوگا۔ایسے مفید و نیک دل گروہ کے مبلغ کو یوں بے دردی سے پتھراؤ کر کے ہلاک کر دیا جائے کتنے شدید و خوفناک ظلم کی بات ہے۔اس واقعہ جانکاہ کا ذرا تصور دل میں لاؤ کہ جس وقت اس بے گناہ مظلوم کو میدان میں کھڑا کر کے اُس پر پتھر مارنے شروع کئے ہوں گے اور وہ اس کے منہ اور آنکھوں پر لگے ہوں گے اور سر کی ہڈیاں ٹوٹ کر ہر طرف خون کی دھار میں فواروں کی طرح چل رہی ہوں گی اس وقت اس عاجز بے بس و بیکس کا کیا حال ہوا ہو گا لکھا ہے کہ اس شدید عذاب سے ان کی روح جسم سے مفارقت کر گئی تو ان کے دلفگار رفیقوں نے پتھروں میں سے