شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 275
۱۲ اکتوبر ۱۹۲۴ء 275 سید ممتاز علی صاحب مالک اخبار تہذیب نسواں کا مضمون مولوی نعمت اللہ خان شہید کے بارہ میں بہنوں نے تہذیب میں مولوی نعمت اللہ خان کے سنگسار کئے جانے کی درد ناک خبر بڑے رنج و افسوس سے پڑھی ہوگی۔ہر چند یہ خبر کئی اخباروں میں شائع ہوئی۔مگر مجھے اس کی صداقت میں شبہہ رہا اور کبھی کبھی یہ خیال دل میں گذرا کہ چونکہ اس زمانہ میں کابل میں بغاوتِ خوست کا فتنہ بپا ہے ممکن ہے مولوی صاحب مرحوم کا کوئی تعلق باغیانِ خوست سے پایا گیا ہو۔مگر اب متواتر خبروں کے علاوہ عدالت کا بل کا وہ فیصلہ بھی شائع ہو گیا ہے جس کے رُو سے ان کے خلاف حکم رجم سنگساری عمل میں لایا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں کی عدالت عالیہ اپیل کے مفتی نے بھی عدالتِ ما تحت کے خونی حکم کو بحال رکھا۔مہذب دنیا میں جہاں کہیں بھی اس واقعہ ہائلہ کا ذکر سنا گیا ہوگا اس سے سننے والوں کے دل کانپ گئے ہوں گے اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہو گئے ہوں گے۔تہذیب و تمدن کے اس زمانے میں جب کہ دنیا کے کونے کونے میں علم و انسانیت کی روشنی پھیلتی جارہی ہے اور امن و امان قائم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔افغانستان کے اس فرمانروا کے عہد میں جس کا نام امان اللہ خان ہے یہ ہولناک ظلم ہونا۔ایسا واقعہ ہے جس نے خلائق کے دلوں کو حیرت اور خوف سے مرعوب کر دیا ہے۔سوچنا چاہیے بے چارے نعمت اللہ خان کا کیا قصور تھا۔بس یہی نا کہ وہ احمدی عقیدہ رکھتا تھا اور اس عقیدے کا وعظ کہتا تھا ؟ ”ہم نے مانا کہ اس کا عقیدہ غلط تھا اور اسلام کے عقائد مُسلَّمہ کے خلاف تھا۔مگر اپنے دلی یقین کو بدل دینا انسان کے بس کی بات نہیں۔