شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 274
274 کہلانے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ،‘ (۵۴) سردار محمود طرزی سابق وزیر خارجہ افغانستان کا بمبئی میں بیان سردار محمود طرزی جو پیرس میں افغانی سفیر مقرر تھے 19 ستمبر کو وہ بمبئی پہنچے ہیں۔مولوی نعمت اللہ صاحب شہید کے قتل کے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اختلاف عقا ئد قتل کی وجہ نہیں ہوسکتی کیونکہ کابل میں تمام مذاہب کے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔(۵۵) انگلستان کے اخبار ڈیلی میل کے نامہ نگار کابل کی رپورٹ مولوی نعمت اللہ خان شہید کا آخری دم تک استقلال اخبار ڈیلی میل تحریر کرتا ہے۔۔۔۔۔" کابل ۲۶ ستمبر۔چند دن گزرے کا بل کی چھاؤنی شیر پور کی حدود میں ایک شخص جس کا نام نعمت اللہ قادیانی تھا۔جو اپنے مذہبی خیالات عام اسلامی عقائد اور امام ابوحنیفہ کے فیصلہ کے خلاف رکھتا تھا اور قادیانی عقائد کی تلقین کرتا تھا۔عدالت ما تحت- عدالت اپیل اور عدالت اعلیٰ کے علماء کے فتویٰ کے مطابق جو اس پر لگایا گیا۔سنگسار کر کے ہلاک کر دیا گیا ایک بہت بڑا مجمع اس فتوی کو عمل میں لانے کا نظارہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گیا۔مگر وہ شخص با وجود اپنے نہایت ہی خوفناک انجام کے جو اس کا انتظار کر رہا تھا۔نہایت مضبوطی اور پختگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اظہار کرتا رہا اور اپنے آخری سانس تک اپنے عقیدہ پر قائم رہا۔اسی حالت میں کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر رہا تھا۔اس پر اس کثرت سے پتھروں کی بوچھاڑ برسنی شروع ہو گئی کہ چندلمحوں میں ہی اس کا جسم کلّی طور پر پتھروں کے بہت بڑے تو دے کے نیچے دب گیا۔“ کابل کی عدالتوں کی کارروائی کی تفصیل دے کر آخر میں لکھتا ہے : اس کا رروائی کے بعد امیر نے ملک کے دستور کے مطابق اس فیصلہ کی بذات خود تصدیق کی جس کے بعد یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا‘ (۵۶)