شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 273
273 ولا قتل الا بالحراب یعنی مرتد کو قتل کرنا اس حالت میں جائز ہوگا جبکہ وہ حربی ہو۔حاشیہ پر اس کی تشریح میں لکھا ہے فَـكـأن القتل ههنا مستزلِمًا للحراب لان الكفر ليس بمبح القتل، قتل کے لیے حربی ہونا ضروری ہے۔کیونکہ محض کفر قتل کو مباح نہیں بنا تا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ فقہ حنفیہ بھی محض ارتداد کو مستو جب قتل نہیں ٹھہراتی۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرتد کی سز اقتل یا رجم کہاں سے نکالی گئی ہے۔د و اگر حکومت افغانستان نے کسی سیاسی امر کی بناء پر ایک احمدی کا قتل مناسب خیال کیا تھا تو اسلام کے دامن کو اس سیاہ دھبے سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔(۵۳) الہ آباد یوپی کے مشہور انگریزی اخبار لیڈر نے اپنے پر چہ مؤرخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۲۴ ء میں لکھا کہ نعمت اللہ خان کی ہلاکت کے لیے جو خلاف انسانیت اور انتہائی درجہ کا سفا کا نہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔وہ یقیناً ساری دنیا کی مہذب اقوام کے دل کو ہلا دیگا۔ایک احمدی نامہ نگار کا بیان ہے کہ اس غریب کو کابل کی تمام گلیوں میں پھر ایا گیا پولیس اس کے ساتھ ساتھ اعلان کرتی گئی کہ اسے کفر کے جرم میں سنگسار کیا جائے گا۔لوگ اکٹھے ہو کر اس کی خوفناک ہلاکت کا مشاہدہ کریں پھر اسے کابل چھاؤنی میں ایک کھلی جگہ لے جا کر کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا تب کابل کے مفتی نے اس پر پہلا پتھر پھینکا۔اس کے بعد چاروں طرف سے اس بیچارے پر پتھروں کی بارش ہونے لگی۔جو اس وقت تک برابر جاری رہی جب تک کہ وہ پتھروں کے ایک بڑے ڈھیر کے نیچے دب نہ گیا۔قتل کا یہ وحشیانہ طریقہ کا بل کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم سے عمل میں لایا گیا۔جس نے حکم دیا تھا کہ عوام الناس کی موجودگی میں اسے سنگسار کر کے ہلاک کیا جائے۔جس ملک میں لوگوں کو ضمیر کی آزادی حاصل نہ ہو اور جہاں انسان کو مذہبی اختلاف کی وجہ سے ایسی وحشیانہ اور انتہائی سزا دی جائے وہ ملک ہرگز مہذب