شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 123 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 123

123 پہرہ والے سڑک پر چلتے نظر آنے لگے وہ قلعہ بالا حصار ( میگزین ) تک گئے اور کچھ دیر کے بعد اسی سڑک سے شہر کی طرف واپس چلے گئے۔تب میاں احمد نور اور ان کے ساتھی حضرت شہید مرحوم کی نعش کے پاس آئے اور اسے اٹھا کر تابوت میں رکھ دیا اس وقت سید احمد نور نے حضرت شہید مرحوم کے کچھ بال اور کپڑا تبرک کے طور پر لے لئے۔تابوت بہت بھاری ہو گیا تھا جب اسے اٹھانے کی کوشش کی تو سب مل کر بھی نہ اٹھا سکے۔سید احمد نور نے لاش کو مخاطب ہو کر کہا کہ جناب یہ بھاری ہونے کا وقت نہیں آپ ہلکے ہو جائیں اس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اکیلے ہی تابوت اٹھا سکتے ہیں۔لیکن حوالدار نے کہا کہ میں اٹھاتا ہوں۔اس نے سید احمد نور کی پگڑی لی اور اس سے تابوت باندھ کر اسے اپنے کندھے پر ڈال لیا۔وہاں سے وہ تابوت ایک مقبرہ میں لے گئے جو نز دیک ہی تھا اس جگہ چند فقیر رہتے تھے سید احمد نور نے حوالدار صاحب اور ان کے آدمیوں کو رخصت کر دیا اور خود ان فقیروں کے پاس چلے گئے ان سے کہا کہ ایک جنازہ آیا ہے اسے یہاں رکھنا ہے انہوں نے تسلی دی اور تابوت ان کے پاس رکھ دیا گیا حوالدار نے جاتے وقت کہا تھا کہ وہ صبح کسی سواری یا مزدوروں کا انتظام کرے گا تا کہ تابوت وہاں سے شہر لے جایا جا سکے۔صبح ہو گئی لیکن حوالدار نہ آیا آخر سید احمد نور نے ان فقیروں میں سے ایک آدمی کو اجرت دے کر شہر بھجوایا کہ وہ مزدور تلاش کر کے لائے وہ فقیر چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد واپس آ گیا اور کہا کہ مزدور تو نہیں ملے شہر میں ہیضہ کی وباء کا زور ہے کثرت سے آدمی مر رہے ہیں میں ہی آپ کی مدد کرتا ہوں۔فقیر نے سرہانے کی طرف سے جنازہ اٹھایا اور سید احمد نور نے پاؤں کی طرف سے اور شہر کی طرف روانہ ہوئے۔وہ سبز کو جانے والی مشرقی سڑک سے شہر میں آئے جب لکڑ منڈی پہنچے تو کچھ مزدور مل گئے جنہوں نے جنازہ اٹھالیا شور بازار سے ہوتے ہوئے مقبرہ طاؤس آئے اس کے قریب ہی غلام جان کا مکان تھا وہاں سردار عبدالرحمن جان ابن سردار شیر میں دل خان موجود تھے سید احمد نور نے سردار عبد الرحمان جان سے پہلے سے بات کی ہوئی