شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 124
124 تھی اور تمام پروگرام ان کے علم میں تھا۔سید احمد نور نے ان کو اشارہ سے اپنی طرف بلایا اور جنازہ کے مقبرہ طاؤس میں بھجوائے جانے کا ذکر کیا۔سردار عبدالرحمن جان نے کہا کہ آپ چلیں اور میرا انتظار کریں میں گھوڑے پر سوار ہو کر آتا ہوں سید احمد نور جنازہ اٹھوا کر مقبرہ طاؤس کے پاس ایک قبرستان میں لے گئے جو حضرت صاحبزادہ صاحب کا آبائی قبرستان تھا اور مزدوروں کو رخصت کر دیا تھوڑی دیر میں سردار عبد الرحمن جان بھی پہنچ گئے انہوں نے گھوڑا اپنے نوکر کے حوالہ کیا اور خود آگے بڑھے۔سردار عبدالرحمن جان نے سرہانے کی طرف سے جنازہ اٹھایا اور پاؤں کی طرف سے سید احمد نور نے پکڑا اتنے میں حوالدار صاحب بھی آگئے اب ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔تینوں نے نماز جنازہ ادا کی سردار عبدالرحمن جان ابن سردار شیر میں دل خان امام بنے اور سید احمد نور اور حوالدار پیچھے کھڑے ہوئے نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی مقبرہ والوں کو سردار عبدالرحمن جان نے کچھ رقم دی اور کہا کہ یہ ایک بزرگ تھے ہم انہیں امامتاً دفن کرتے ہیں اگر کوئی شخص ان کے بارہ میں دریافت کرتا ہوا آئے تو اسے قبر کا پتہ دے دینا۔سردار عبدالرحمن جان کی والدہ صاحبہ بھی حضرت صاحبزادہ صاحب سے بہت عقیدت رکھتی تھی سردار عبد الرحمن جان کی ایک بہن امیر حبیب اللہ خان کی بیوی تھیں۔سید احمد نور کا بل میں سردار صاحب کے مکان پر ایک ماہ کے قریب مقیم رہے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر حضرت صاحبزادہ صاحب کی لاش نکالے جانے کا امیر کو علم ہو جائے اور وہ کوئی کاروائی ان کے خلاف کرنا چاہے تو انہیں کابل میں ہی گرفتار کر لیا جائے ان کے اہل وعیال کو اس سلسلہ میں کوئی تکلیف نہ دی جائے۔انہی دنوں میں سردار عبد الرحمن جان نے احمدیت قبول کر لی جنازہ کے چند روز کے بعد سردار صاحب نے دربار سے آکر بتایا کہ امیر حبیب اللہ خان کے پاس رپورٹ پہنچائی گئی ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی لاش پتھروں سے نکال لی گئی ہے لیکن اس نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔