شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 115
115 افغانوں نے قتل کر دیا اور انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کر کے فتح حاصل کی تو انگریزی فوج نے اس قلعہ کو توڑ پھوڑ دیا۔اس کے بعد یہ میگزین کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔اس کے جنوب میں ایک پرانا قبرستان ہے جس میں کابل کے امراء ورؤساء کی قبریں ہیں۔اس جگہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو سنگسار کیا گیا تھا۔(۱۲۱) - حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کی خبر قادیان پہنچی تو اس سے ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جدا ہو گیا۔اور دوسری طرف آپ کو خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے ایک شخص نے ایمان واخلاص کا یہ اعلیٰ نمونہ دکھا یا کہ سخت سے سخت دکھ اور مصائب جھیلے اور بالآ خر جان دے دی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا - (۱۲۲) سید ناظر حسین صاحب ساکن کالو والی سیداں ضلع سیالکوٹ کا بیان ہے کہ انہوں نے اگست ۱۹۰۳ ء میں ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم کے ساتھ قادیان جا کر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دستی بیعت کی تھی۔اس سے پہلے حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کی شہادت کا واقعہ ہوا تھا اور آپ کی شہادت کا قادیان میں بہت چرچا تھا۔اور یہ بات بھی مشہور تھی کہ امیر حبیب اللہ خان نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قتل کے لئے بھی بعض آدمی قادیان بھجوائے ہیں۔اگر چہ حضور کا محافظ اللہ تعالیٰ تھا مگر حضور نے ہدایت دی ہوئی تھی کہ احتیا طا رات کو حضور کے گھر کی ڈیوڑھی میں دو آدمی پہرے کے لئے سویا کریں۔چنانچہ ایک رات میں اور ماسٹر عبدالحق صاحب حضور کی ڈیوڑھی میں پہرے کی غرض سے سوئے تھے۔(۱۲۳) شہادت کے بعد کا بل میں وباء ہیضہ اور بعض دیگر نشانات کا ظہور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: صبح ہوتے ہی کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا اور نصر اللہ خان حقیقی بھائی امیر حبیب اللہ