شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 116 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 116

116 خان کا جو اصل سبب اس خونریزی کا تھا اس کے گھر میں ہیضہ پھوٹا اور اس کی بیوی اور بچہ فوت ہو گیا اور چارسو کے قریب ہر روز آدمی مرتا تھا۔اور شہادت کی رات آسمان سرخ ہو گیا۔(۱۲۴) ” سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں وو سخت ہیضہ کا بل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے۔‘ (۱۲۵) 66 انگریز انجینئر Mr۔Frank A۔Martin نے لکھا ہے کہ قتل کئے جانے سے پہلے ملا (صاحب) نے امیر کی موجودگی میں یہ پیشگوئی کی کہ اس ملک پر ایک بڑی تباہی آنے والی ہے جس کے نتیجہ میں امیر حبیب اللہ خان اور سردار نصر اللہ خان کو بھی دکھ پہنچے گا۔جس روز ملا (صاحب) کو قتل کیا گیا اس دن اچانک شام کو نو بجے کے قریب آندھی کا ایک زبر دست طوفان آیا جو بہت زور شور سے آدھے گھنٹے تک جاری رہا پھر اچانک جس طرح شروع ہوا تھا تھم گیا۔رات کے وقت اس طرح آندھی کا آنا غیر معمولی بات تھی۔عام لوگ اس آندھی کے بارہ میں کہنے لگے کہ یہ ملا (صاحب) کی روح کے نکلنے کی وجہ سے ہوا ہے۔اس کے بعد ہیضہ کی وباء آ گئی۔سابقہ وباؤں کو مد نظر رکھ کر ہیضہ ابھی چار سال تک متوقع نہیں تھا۔اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ہیضہ کی وباء بھی ملا ( صاحب) کی پیشگوئی کے مطابق آئی ہے۔اسی وجہ سے امیر حبیب اللہ خان اور شہزادہ نصر اللہ خان شدید خوف میں مبتلا ہو گئے۔انہیں یقین تھا کہ اب ان کی موت بھی آنے والی ہے۔جب شہزادہ نصر اللہ خان کی ایک پیاری بیوی ہیضہ سے فوت ہوگئی تو وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور غم سے نیم پاگل ہو گیا۔مقتول ملا ( صاحب) کے مریدوں کی بڑی تعدا د تھی اور وہ بہت رسوخ اور طاقت والے بھی تھے۔جن دو ملاؤں نے ان کے قتل کئے جانے کا فتویٰ دیا تھا وہ بھی نہایت خوف کی حالت میں زندگی بسر کرنے لگے کیونکہ انہیں ان کے مریدوں کی جانب سے انتقام لئے جانے کا خوف رہتا تھا۔ان میں سے ایک ملا کو ہیضہ ہوا اور وہ مرتے مرتے بچا۔جب ۱۹۰۳ء میں وبا پھوٹی تو امیر حبیب اللہ خان نے اپنے والد امیر عبدالرحمن خان