شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 114 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 114

114 ہے کہ پہلا پتھر قاضی عبدالرزاق ملائے حضور نے پھینکا تھا اور اس کے ساتھ اس نے جوش میں آ کر کہا تھا کہ آج جو آدمی اس پر پتھر پھینکے گا وہ جنت میں مقام پائے گا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی پیشانی پر پہلا پتھر لگا تو آپ کا سر قبلہ رخ جھک گیا اور آپ نے یہ آیت پڑھی: اَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الحِقْنِي بالصَّالِحين۔۔۔آپ کی شہادت کے ار ربیع الاول ۱۳۲۱ھ مطابق ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۳ ء واقعہ ہوئی۔(119) مکرم رحمت اللہ صاحب باغانوالے بنگہ ضلع جالندھر کی روایت ہے کہ: خاکسار دار الامان میں گیا ہوا تھا کہ نماز ظہر کے بعد مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اخبار وطن لا ہور میں حضرت مولوی عبداللطیف صاحب افغانی کو شہید کئے جانے کی خبر شائع ہوئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ اخبارا اکثر احتیاط کرتا ہے یعنی بالعموم غلط خبر شائع نہیں کرتا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ابھی ہمارے اخبار اس پر کچھ شائع نہ کریں۔انشاء اللہ ہم خود لکھیں گے“۔(۱۲۰) حضرت صاحبزادہ صاحب کا مقام شہادت مختلف روایات میں جائے شہادت کا ذکر ہے۔ایک روایت میں اسے ہند وسوزان بتایا گیا اور ایک روایت میں سنگ سیاہ کا میدان کہا گیا ہے۔یہ دونوں مقامات ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں تھے۔جناب قاضی محمد یوسف صاحب اگست ۱۹۳۴ء میں ظاہر شاہ کے زمانہ میں کا بل گئے تھے ان کی تحقیق درج ذیل ہے : کوہ آسامائی کے دامن میں شہر کابل واقع ہے۔کابل شہر کے شیر دروازہ کے باہر بجانب پشاور آدھ میل کے فاصلہ پر جنوب کی طرف ایک ٹیلہ پر بالا حصار واقع ہے۔اس قلعہ میں گزشتہ زمانہ میں امیر شیر علی رہا کرتا تھا۔اس کے بعد انگریزی سفیر کی رہائش تھی۔اس کو