شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 331
331 سڑک سے گذر رہا تھا کہ اس نے دیکھا ملا عبدالرزاق سڑک پر داہنی طرف چلا جا رہا ہے اور ڈیوٹی کا سپاہی اس کو اس سے روک رہا ہے اور وہ رکتا نہیں بلکہ اسے دائیں طرف چلنے پر اصرار کر رہا ہے اس پر امیر حبیب اللہ خان نے مُلا عبد الرزاق کو ایک ہزار روپیہ جرمانہ کر دیا۔اس سزا کے بعد وہ کا بل سے غائب ہو گیا معلوم نہیں کہاں گیا نہ وہ مدارس کی افسری رہی اور نہ ملائے حضور امیر کا عہدہ رہا۔پھر اس کا حشر کیا ہوا یہ معلوم نہیں ہو سکا۔اس ملا کے انجام کے بارہ میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔امیر حبیب اللہ کا بڑا بیٹا سردار عنایت اللہ خان تھا جو ولی عہد بھی تھا امیر حبیب اللہ خان کے قتل پر سردار نصر اللہ خان نے پغمان کے علاقہ میں اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا اور سردار عنایت اللہ خان کو امارت سے محروم کر دیا۔امیر امان اللہ خان کے عہد میں جب اس کے خلاف بچہ سقاؤ نے بغاوت کی تو امیر امان اللہ خان نے بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور سردار عنایت اللہ خان سے درخواست کی کہ وہ افغانستان کی باشاہت قبول کر لے اس پر مجبور اسردار عنایت اللہ خان نے اس کی بات مان لی اور چند دن برائے نام امیر بنا رہا۔یہاں تک کہ بچہ سقاؤ کے اصرار پر اس کو امارت سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا اور حکومت بچہ سقاؤ کے حوالہ کرنی پڑی۔سردار عنایت اللہ خان انگریزوں کے ہوائی جہاز پر پشاور آ گیا پھر کچھ عرصہ ہندوستان اور قندھار ٹھہر کر ایران چلا گیا۔امیر حبیب اللہ خان اور اس کے بھائی سردار نصر اللہ خان نے اپنے دور حکومت کے آخر میں حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کے تمام بیٹوں کو شیر پور جیل میں ایک نہایت تکلیف دہ قید میں ڈالے رکھا تھا جو کئی ماہ تک ممتد تھی۔یہ ۱۹۱۸ء سے ۱۹۱۹ء کا واقعہ ہے۔پانچ صاحبزادگان جن کو جیل میں ڈالا گیا تھا۔ان کے نام یہ ہیں صاحبزادہ محمد سعید جان ، صاحبزادہ عبدالسلام خان - صاحبزادہ محمد عمر جان۔صاحبزادہ ابوالحسن قدسی اور صاحبزادہ محمد طیب جان - سردی کی شدت اور جیل کی تکالیف سے تمام صاحبزادگان بیمار پڑ گئے بلآخر سردار امان اللہ خان کی کوشش سے جو اس وقت والی کا بل تھا صاحبزادگان کو رہائی