شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 330 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 330

330 جار ہا تھا تو کسی نا معلوم شخص نے تلوار مارکر اس کا سرتن سے جدا کر دیا۔مولوی نجف علی اس کے قید کئے جانے کا ذکر پہلے آچکا ہے یہ امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ کا واقعہ تھا۔گیارہ سال قید رہنے کے بعد امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں رہائی ملی۔اور محمد نادرشاہ کے زمانہ میں اس شخص نے ایک کتاب فارسی نظم میں درہ نادرہ کے نام سے لکھی جس میں افغانستان کے ملاؤں کی مذمت کی تھی۔جب امیر محمد نادر شاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے یہ کتاب عدالت عدلیہ کے افسر اعلیٰ کو بھجوا دی کہ عدالت اپنی رائے تحریر کرے۔انہوں نے بعد مطالعہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص کافر اور مرتد ہے کیونکہ اس نے اپنی اس کتاب میں تو ہین علماء دین کا۔- ارتکاب کیا ہے اور اس کو سنگسار کیا جانا چاہئیے۔آخر کار برطانیہ کے سفیر کی سفارش پر اس کو اجازت ملی کہ وہ کابل سے نکل کر ہندوستان چلا جائے اور اس کے ساتھ اس کے بھائی محمد چراغ کو بھی افغانستان سے نکلوا دیا گیا۔یہ انجام ان پنجابی اہل حدیث ملاؤں کا ہوا جنہوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف امیر حبیب اللہ خان کو اکسایا تھا اور آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا تھا جس کے نتیجہ میں بادشاہ نے آپ کو شہید کر وا دیا تھا۔قاضی عبدالرزاق خان رئیس مدارس و ملائے حضور امیر اور قاضی عبدالرؤف قندھاری نے اپنے ضمیر کے خلاف سردار نصر اللہ خان کے دباؤ میں آکر حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف کفر وارتداد کا فتویٰ دیا تھا۔جس کے نتیجہ میں امیر حبیب اللہ خان نے ان کی سنگساری کی سزا کی توثیق کی تھی اور قاضی عبد الرزاق نے ہی آپ پر پہلا پتھر چلایا تھا۔کچھ عرصہ بعد قاضی عبدالرزاق امیر کی نظروں سے گر گیا اور اس کی وہ وقعت اور رسوخ باقی نہ رہا جو پہلے تھا۔اس ضمن میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے امیر حبیب اللہ خان نے اپنے وقت میں جو اصلاحات جاری کی تھیں ان میں یہ بھی ایک حکم تھا کہ لوگ سڑک پر بائیں طرف چلا کریں اور کوئی شخص اس کے خلاف نہ کرے۔ایک دن امیر حبیب اللہ خان ایک