شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 332 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 332

332 ملی۔جیل سے نکلنے کے تھوڑے عرصہ بعد ان میں سے دو یعنی صاحبزادہ محمد سعید جان اور صاحبزادہ محمد عمر جان کی وفات ہو گئی اور وہ جیل کی تکالیف کے نتیجہ میں شہید ہو گئے صاحبزادگان کی جیل کے دوران حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف صاحب کی ایک زوجہ محترمہ کا انتقال ہو گیا لیکن صاحبزادگان کو باوجود درخواست کے ان کے جنازہ میں شمولیت کی اجازت نہ دی گئی آخر میں صرف صاحبزادہ محمد سعید جان کو اجازت ملی کہ والدہ صاحبہ کی تجہیز و تکفین اور تدفین کا انتظام کر سکیں۔گویا امیر حبیب اللہ خان اور سردار نصر اللہ خان کے احکامات کے نتیجہ میں حضرت شہید مرحوم کے دو صاحبزادے بھی درجہ شہادت کو پہنچے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاداش ظلم کی چکی چلائی گئی تو خاندان شاہی کے دو جوان شہزادے قتل کئے گئے پہلے امیر امان اللہ خان نے اپنے چچا سردار نصر اللہ خان کا نوجوان لڑکا قتل کروا دیا۔پھر بچہ سقا ؤ نے اپنے دور میں امیر حبیب اللہ خان کا بیٹا خفیہ طور پر قتل کروا کے ارک شاہی کی ایک دیوار کے نیچے اس کی نعش دفن کر وادی۔قاضی عبدالروف قندھاری۔جس نے حضرت صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف کی سنگساری کے فتویٰ پر دستخط کئے تھے اس کے اپنے انجام کے متعلق ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا لیکن اس کے بیٹے قاضی عبدالواسع ( یا قاضی عبد الرحمن ) کو جس نے بچہ سقاؤ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔والی کا بل ملک محسن نے بچہ سقاؤ کے حکم کے مطابق گرفتار کر لیا اور کابل کے ایک چوک میں نہایت بے رحمی سے ہلاک کروا دیا۔ملا عبداللہ معروف بہ ملائے لنگ اور اس کے داماد عبدالرشید نے افغانستان کے سمت جنوبی میں منگل اقوام کی بغاوت میں امیر امان اللہ خان کے خلاف حصہ لیا تھا اور اس پر فتاوائے کفر وارتداد لگائے تھے۔امیر امان اللہ خان نے اس بغاوت کو رفع کرنے کے لئے سردار احمد علی جان کو بھجوایا تھا۔جس نے گفت و شنید کے بعد ان شرائط پر ان ملاؤں سے ہتھیار ڈلوائے تھے کہ امیر امان اللہ خان جیسا کہ اس پر الزام لگایا جاتا ہے اگر احمدی نہیں ہے تو چند احمد یوں کو قتل کروائے اس سمجھوتہ میں سردار احمد علی جان بھی شریک تھا اور اسی کی سفارش پر