شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 304 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 304

304 کی رائے میں بہت تبدیلی آچکی تھی اور وہ ان کی ذہنیت اور رسوخ کو اپنی قوم کی ذہنی اور معاشرتی ترقی کی راہ میں روک محسوس کرتا تھا اس لئے ان کا زور کم سے کم عرصہ میں تو ڑ دینا چاہتا تھا۔ایک مرتبہ جب وزارت خارجہ میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی اور اس میں بیرون ممالک کے سفیروں اور دوسرے غیر ملکیوں کو مدعو کیا گیا تو افغانستان کے ملاؤں جن کا اندرون ملک اور سرحدی قبائل پر گہرا اثر تھا کو بھی دعوتی کارڈ بھجوا کر بلوایا گیا جس میں لکھا تھا کہ اعلیٰ حضرت امیران کو وزارت خارجہ میں شرف باریابی بخشیں گے۔جب یہ قدیم الخیال ملاؤں کا گروہ ایک بڑے ہال میں جمع ہوا تو امیر مع اپنے سٹاف اور جملہ سفراء اور مہمانوں کے ٹھیٹھ یورپین لباس میں ہال میں داخل ہوا اور افغانی دستور کے خلاف السلام علیکم کہنے اور مصافحہ و معانقہ کرنے کے بجائے اپنا ہیٹ اتار کر سب حاضرین کے سلام کا جواب دیا اور مغربی انداز میں ہر ایک سے سادہ طور پر مصافحہ کرتا ہوا گزرتا گیا یہ نیا طریق ملاؤں کے نزدیک نا قابل برداشت تھا اور انہوں نے امیر کے اس طریق کو اس کی لا مذہبیت پر محمول کیا۔انہی ملاؤں میں ایک ملا صاحب چکنور بھی تھے جن کا افغانستان کے مشرقی قبائل میں بہت اثر و رسوخ تھا اتفاق سے ملا صاحب کے ہاتھ میں موٹے دانوں کی ایک تسبیح تھی جس کو وہ اپنے ہاتھ میں پھیرتے جاتے تھے۔ملا کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر امیر امان اللہ خان کی بھنویں تن گئیں اور وہ تمسخرانہ انداز میں مُلا صاحب کو دیکھنے لگا اور اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ یہ کیا آپ اُونٹ کی مینگنیوں سے کھیل رہے ہیں۔امیر یہ کہہ کر گزر گیا تو مصاحبوں میں سے کسی نے عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت نے یہ کیا کہہ دیا یہ تو ملا صاحب چکنور تھے۔اس پر امیر امان اللہ خان خوش ہو کر بولا کہ کوئی سا ریچھ ہو پرواہ نہیں میں ان سب کو آدمی بنا دوں گا۔یہ اور اس طرح کہ اور بہت سے کلمات جو خلوت اور جلوت میں امیر کے منہ سے نکلے تھے ان سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنی پسند کی اصلاحات جاری کرنے پر تلا ہوا ہے اور ان کی راہ