شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 189
189 ان کے دوسرے بھائی صاحبزادہ سید ابوالحسن صاحب حصول تعلیم کی غرض سے ٹھہر گئے ہیں، (۴۹) محتر مہ اہلیہ صاحبہ حضرت صاحبزادہ محمد عبد اللطیف شہید کا انتقال اخبار الفضل قادیان ۱۲ نومبر ۱۹۳۹ء کو رقمطراز ہے کہ یہ خبر نہایت رنج و افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ حضرت سید محمد عبداللطیف صاحب شہید کا بل کی اہلیہ محترمہ جن کا نام شاہجہان بی بی تھا یکم نومبر بعد نماز عصر تین ماہ کے قریب علیل رہ کر انتقال فرما گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔وو " مرحومہ نہایت مخلص اور پُر جوش احمدی تھیں جب حضرت سید عبداللطیف صاحب کی شہادت کا نہایت دل دوز اور روح فرسا واقعہ سرزمین کابل میں وقوع پذیر ہوا تو انہوں نے اس وقت نہایت استقلال اور صبر کا نمونہ دکھایا اور اس کے بعد اپنی چھوٹی اور بڑی سب اولا د کو احمدیت کی تعلیم دینے اور اس کی صداقت پر پختہ کرنے میں منہمک ہو گئیں اور باوجود اس کے کہ حکومت کے علاوہ خاندان کے بعض لوگ بھی ہر رنگ میں دکھ اور تکالیف پہچانے اور مخالفت کرنے میں کمی نہ کرتے تھے مرحومہ ہر موقعہ پر یہی فرماتیں کہ اگر احمدیت کی وجہ سے میرے چھوٹے چھوٹے بچے اور میں خود بھی قتل ہو جاؤں تو اس پر خدا تعالیٰ کی بے انتہا شکر گزار ہوں گی اور بال بھر بھی اپنے عقائد میں تبدیلی نہ کروں گی مرحومہ کے اس عزم واستقلال کے مقابلہ میں مصائب و آلام کے کوہ گراں آئے لیکن خدا کے فضل سے پر کاہ کی طرح اُڑ گئے اور وہ اپنے مدعا میں کامیاب ہو گئیں چنانچہ حضرت سید عبداللطیف صاحب کے خاندان میں خدا کے فضل سے احمدیت پختہ ہوگئی اور ان کی ساری اولا دحضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قابل رشک اخلاص و محبت رکھتی ہے۔مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پوری پوری پابند تھیں۔انہوں نے اپنے ورثہ کے ۱/۳ حصہ کی وصیت بھی کی ہوئی تھی۔۱۹۲۶ ء میں جب سے یہ خاندان خوست سے سرحد میں آیا۔ہر سال سالانہ جلسہ پر تشریف لاتی تھیں۔بیماری کی حالت میں بھی ان کی