شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 188 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 188

188 ہیں اور حضور کے سامنے ہم تینوں بھائی عبدالسلام واحمد ابوالحسن ومحمد طیب بیٹھے ہوئے ہیں۔مگر سب سے زیادہ حضور کے قریب ابوالحسن صاحب جو کہ اس وقت قادیان میں سکونت پذیر ہیں بیٹھے ہیں۔اسی اثناء میں ہم تینوں نے حضور سے بیعت کی درخواست کی مگر حضور نے فرمایا کہ میں نے ایک اور شخص کو تمہاری بیعت لینے کی اجازت دی ہے اس پر ہم نے فوراً ان افغانوں سے کہا کہ تم اردو میں حضور کی خدمت میں ہماری طرف سے عرض کرو کہ ہم حضور کی بیعت کو مقدس سمجھتے ہیں۔یہ کہنے پر حضور نے ہمیں اردو میں یہ جواب دیا کہ میری اور اس شخص کی بیعت میں کوئی فرق نہیں۔اس وقت فوراً میری زبان سے یہ نکلا کہ اس شخص سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہیں۔پھر ہم خاموش ہو گئے۔اسی اثنا میں ان افغانوں میں سے جو حضور کی خدمت میں حاضر تھے ایک نے آنحضور کا نام مبارک صرف ان الفاظ میں لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے سوا کچھ نہ کہا۔اس کے کہنے سے مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر راضی ہیں حالانکہ آپ نے اس شخص کی طرف غور سے بھی دیکھا۔میں خواب میں ہی اپنے دل میں کہتا ہوں کہ حضور پر درود پڑھنے پر حضور کے خاموش رہنے اور منع نہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اور صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب پشاوری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے انکار کی وجہ سے غلطی پر ہیں کیونکہ در و درسولوں اور انبیاء پر کہنے کی سنت ہے۔‘ (۴۸) صاحبزادہ سید محمد طیب جان کی سرائے نو رنگ ضلع بنوں کو واپسی اور صاحبزادہ سیدابوالحسن قدمی کا تعلیم دین کی غرض سے قادیان میں قیام اخبار الفضل لکھتا ہے کہ ” صاحبزادہ سید محمد طیب صاحب ابن حضرت مولوی عبداللطیف صاحب شہید واپس تشریف لے گئے ہیں کیونکہ گھر کا انتظام و دیگر کاروبارا نہی کے سپرد ہے۔