شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 126
126 ہو ا تھا۔ملا میر وصاحب اپنی محبت اور اخلاص میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل وعیال کے ساتھ ہو لئے تھے ورنہ ان کی گرفتاری کا کوئی حکم نہ تھا۔سید احمد نور پیدل اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔شیخیل ( ہاشم خیل ) میں رات گزاری صبح علی خیل آئے جہاں چھاؤنی تھی اور مقامی حاکم سردار عطا محمد خان رہتا تھا اسے سردار عبد الرحمن جان کا خط دکھایا اور پھر اپنے گاؤں میں آگئے۔- پندرہ میں دن کے بعد انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا کہ وہ اب قادیان جائیں گے پھر خدا معلوم کب واپس آئیں یا نہ آسکیں۔آپ کی والدہ محترمہ اور بھائی سید صاحب نور صاحب ساتھ جانے کو آمادہ ہو گئے گاؤں کے نمبر دار کو پتہ لگا تو اس نے حاکم سردار عطا محمد خان کو اطلاع کر دی کہ یہ شخص اپنے رشتہ داروں سمیت قادیان جا رہا ہے اور بے دین ہو جائے گا۔ظاہر یہ کرتا ہے کہ حج کرنے کو جاتا ہے یہ ہمارے گاؤں کے معزز لوگوں میں سے ہیں ان لوگوں کے جانے سے ہمارا گاؤں اجڑ جائے گا۔حاکم نے کچھ سپاہی گرفتاری کے لئے بھجوائے اس وقت سید صاحب نور گھر پر نہیں تھے۔سپاہی سید احمد نور اور ان کے چچا سید محمد نور کو گرفتار کر کے لے گئے۔سردار عطا محمد خان کو چونکہ سید احمد نور صاحب سردار عبدالرحمن جان کا خط دکھا چکے تھے اس لئے اس نے ان کو گرفتار تو کر لیا لیکن کوئی سختی ان پر نہیں کی گئی حاکم نے سید محمد نور صاحب سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے انہوں نے جواب دیا کہ میرا ارادہ تو کہیں جانے کا نہیں میرے متعلق کسی نے جھوٹی رپورٹ کر دی ہے۔سید احمد نور صاحب نے بھی حاکم سے کہا کہ میرے چچا کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں رپورٹ تو میرے بارہ میں کی گئی ہے اس لئے میرے چا کو چھوڑ دیا جائے اس پر حاکم نے سید محمد نور صاحب کو رہا کر دیا۔پھر حاکم نے سید احمد نور سے کہا کہ ان کے بارہ میں اسے اطلاع دی گئی ہے کہ وہ حج کو جا رہے ہیں حالانکہ حج کو نہیں بلکہ قادیان جا رہے ہیں اور اس طرح ان کا تمام خاندان قادیانی ہو جائے گا۔حاکم کو یہ بھی خطرہ تھا کہ اگر اس امر کی رپورٹ کسی نے کا بل میں کر دی تو اس پر بھی سختی ہوگی۔سید احمد نور نے حاکم سے کہا کہ اگر وہ حج کو جاتے تو جائیدا دفروخت کرتے