شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 127 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 127

127 یا روپیہ حاصل کرنے کے لئے کوئی اور صورت کرتے یہ درست نہیں ، وہ حج کو نہیں جار ہے اور نہ ان کے پاس حج کے سفر کے اخراجات کے لئے کوئی رقم ہے اس بات کا حاکم پر اچھا اثر پڑا اور اس نے سید احمد نور کو بیٹھنے کو کہا اور انہیں چند روز علی خیل میں نظر بند رکھا کچھ آدمی آ کر انہیں ملے اور کہا کہ ہم تمہارے ضامن بننے کے لئے تیار ہیں تا کہ انہیں رہائی مل جائے سید احمد نور نے انہیں کہا کہ وہ ان کے ضامن نہ بنیں کیونکہ ان کا تو پختہ ارادہ قادیان جانے کا ہے ان کے جانے کے بعد ان کے ضامنوں کو بلا وجہ تکلیف ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میرے اردگرد اگر لوہے کی دیوار میں بھی ہوں تو وہ بھی مجھے راستہ دیں گی میں انشاء اللہ چلا جاؤں گا مگر اس طرح دھوکہ سے کسی کو ضمانت میں پھنسا کر نہیں جانا چاہتا۔سید احمد نور صاحب کے یقین کی وجہ دراصل یہ تھی کہ وہ جب قادیان سے روانہ ہونے والے تھے تو انہوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ وہ قادیان سے باہر نہیں جانا چاہتے تو حضور نے ان کو فرمایا تھا کہ اس وقت تم صاحبزادہ صاحب کے ساتھ چلے جاؤ تم بعد میں واپس قادیان آ جاؤ گے۔علی خیل میں سید احمد نور صاحب کے بھائی سید صاحب نور بھی ان کو ملنے آئے انہیں سید احمد نور نے کہا کہ تم پہاڑوں میں سے ہو کر انگریزی علاقہ میں چلے جاؤ۔میں بعد میں آ جاؤں گا مجھے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔سید احمد نور صاحب کی نظر بندی ایسی تھی کہ انہیں ایک کمرہ رہائش کے لئے دیا گیا تھا۔ہتھکڑی وغیرہ نہیں لگائی گئی تھی۔ایک روز وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے۔چھاؤنی میں ایک جگہ نماز پڑھی وہاں ایک فوجی جرنیل آیا اس نے سید احمد نور کو پہچان لیا اور ان سے چھاؤنی میں آنے کی وجہ دریافت کی سید احمد نور نے کہا کہ میں یہاں نظر بند ہوں سردار عطا محمد خان نے مجھے یہاں روکا ہوا ہے۔اس پر اس جرنیل نے خفگی کا اظہار کیا کہ تمہارے جیسے نیک آدمی کو نظر بند رکھنا بہت بری بات ہے۔دونوں نے چھاؤنی کی ایک مسجد میں نماز پڑھی۔جرنیل نے سید احمد نور کو تحفہ چائے وغیرہ دی اور پھر وہ چلا گیا۔