شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 125
125 سردار صاحب اور ان کی والدہ محترمہ نے سید احمد نور سے بہت اچھا سلوک کیا ان کو جب علم ہوا کہ سید احمد نور قادیان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے ایک گھوڑا اور جائے نماز ان کو دیا کہ وہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سردار صاحب کی طرف سے بطور تحفہ پیش کر دیں۔سید احمد نور نے جائے نماز تو لے لی اور گھوڑا نہ لیا۔انہوں نے کہا کہ میں چھپ کر پہاڑوں میں سے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔سردار عبدالرحمن جان نے سید احمد نور کو ایک خط لکھ دیا کہ یہ میرا آدمی ہے اس کو تکلیف نہ دی جائے جب سید احمد نور کو تسلی ہو گئی کہ ان کی گرفتاری نہیں ہوگی تو وہ کا بل سے روانہ ہوئے۔(۱۳۶) سید احمد نور صاحب کی کابل سے روانگی سردار عبدالرحمن جان صاحب اور ان کی والدہ محترمہ نے سید احمد نور صاحب کو سفر خرچ کے طور پر کچھ رقم دی انہوں نے بازار جا کر ایک خچر کرایہ پر لی اور خوست روانہ ہوئے جب ایک منزل طے کی تو دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کے اہل وعیال اور رشتہ داروں کو قید کر کے کا بل لے جایا جا رہا ہے مستورات اور بچے بھی ساتھ تھے سید احمد نور جب ان کے پاس سے گزرے تو محافظ سپاہیوں نے ان کی خچر چھین لی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل وعیال کی ضرورت کے لئے استعمال میں لے آئے ان کے متعلق سرکاری حکم یہ تھا کہ جس چیز کی ضرورت ہو راستہ میں بیگار کے طور پر حاصل کر لی جائے۔سید احمد نور نے مصلحتا حضرت شہید مرحوم کے کسی عزیز یا رشتہ دار سے کوئی بات نہیں کی راستہ میں ایک جگہ بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد انہوں نے ملا میر و صاحب کو دیکھا جو مولوی عبدالستارخان صاحب معروف بہ بزرگ صاحب کے بھائی تھے وہ قافلہ کے پیچھے کچھ فاصلہ پر آ رہے تھے۔سید احمد نور نے ان کو اشارہ سے بلایا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت اور ان کی تدفین اور قبر کے متعلق بتایا اور یہ کہا کہ قبر کا مقام سردار عبدالرحمن جان سے دریافت کر لیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل و عیال کو اس وقت تک آپ کی شہادت کا علم نہیں