شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 22 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 22

شعب ابی طالب 22 لا حاصل ہے۔( بخاری کتاب بدء الخلق ذکر الملائکہ ) اُس نے لوگوں تک پیغام حق پہنچنے سے روکنے کیلئے کوشش کی کہ آپ طائف سے واپس چلے جائیں آپ کی حوصلہ شکنی کی کہ یہاں آپ کی کوئی بات نہ سنی جائے گی۔اہل طائف کو اس میں تو کوئی عزت نظر نہ آئی کہ آپ کو سچا نبی تسلیم کر لیا جائے۔مگر اس بات سے عزت بڑھانے کا خیال آیا کہ آپ کی مخالفت میں سبقت حاصل کی جائے۔آپ نے دس دن طائف میں قیام فرمایا۔یہ قیام کیا تھا آزمائش کا شدید ترین دور تھا بد بختوں نے آپ کے اوپر کتے چھوڑے۔آوارہ لڑکوں کو اُکسایا کہ جھولیوں میں پتھر بھر کر آپ کا پیچھا کرو اور مار مار کر شہر سے نکال دو یہ بدتمیز لڑ کے نہ صرف آپ کو پتھر مارتے تھے بلکہ بری بری باتیں بولتے اور مذاق اُڑاتے تھے حضرت زید آپ کو بچانے میں ناکام رہے بلکہ خود بھی زخمی ہو گئے۔پتھروں کی چوٹوں سے آپ کے جسم پر کئی زخم آئے جن سے خون رس رس کر بہتا رہا ظالموں نے اس قدر مارا کہ آپ کے جوتے آپ کے خون سے بھر گئے آپ چلتے تو جوتوں سے خون چھلکتا جب آپ زخموں سے چور ہو کر بیٹھ جاتے تولڑ کے بازو تھام کر کھڑا کر دیتے جب آپ چلنے لگتے تو پھر پتھر برسانے لگتے وہ بے دردلوگ تو آپ کو اسی بُری طرح مار رہے تھے مگر آپ کا دل ان کے لئے پریشان تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے مرسل کو اس ایذا دہی پر اس بستی پر کوئی عذاب آجائے۔آوارہ لڑکوں نے نہ صرف آپ کو شہر سے نکال دیا بلکہ کئی میل دور تک وہ یہ تماشا دیکھنے کیلئے آپ کا پیچھا کرتے رہے اور مار پیٹ کا عمل جاری رکھا۔احادیث میں لکھا ہے کہ اتنی شدید تکلیف میں پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی "جبار اور قہار خدا نے حکم دیا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ارد گرد کے پہاڑوں کو اس بستی پر گرا کر صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے مگر رحمت مجسم نے فرمایا۔