شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 21 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 21

شعب ابی طالب 21 خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی وفات کا دوہرا صدمہ آپ کو غمگین رکھتا۔ابو طالب آپ کے بزرگ تھے اور ہر قسم کی مخالفت میں آپ کا ساتھ دیا تھا اسی طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہ صرف سب گھر یلو ذمہ داریاں اور بچوں کی پرورش کا بارا ٹھاتی تھیں بلکہ آپ " کا حوصلہ بھی بڑھاتی تھیں۔ان دو مہربان ہستیوں کے بعد آپ خود کو تنہا محسوس فرماتے۔ایک دن معمول کے مطابق آپ مکہ کی گلیوں میں تبلیغ کیلئے نکلے مگر وہ عجیب دن تھا نہ کسی نے آپ سے بات کی نہ آپ کی بات سنی بلکہ کوئی نیا دکھ بھی نہ دیا اس لاتعلقی سے آپ بہت دل گرفتہ ہوئے اور مکہ چھوڑنے کے فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ کے ساتھ شوال دس نبوی کو آپ مکہ سے طائف کیلئے روانہ ہوئے۔(ابن سعد) طائف مکہ سے قریباً ساٹھ میل دور جنوب مشرق کی طرف ایک سرسبز شہر ہے یہاں کے لوگ دولت کی فراوانی کی وجہ سے تکبر اور عیش پسند تھے۔بہت سے بتوں کی پوجا کرتے تھے تہواروں پر شان وشوکت کا اظہار کرنا بہت پسند تھا۔یہ خبر ان کو ملی تھی کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔مگر اُن کے ذہن میں نبوت کے دعویدار کا تصور کسی پرشکوہ بادشاہ کا تھا۔اگر رسول کریم مالی میں یہ تم دنیاوی وجب اہتوں کے ساتھ طائف تشریف لے جاتے تو اہل طائف اپنی ظاہری شان بڑھانے کیلئے ضرور آپ کی طرف توجہ دیتے مگر آپ تو سادہ غریب مزاج انسان تھے۔جو ایک کمزور کم عمر ساتھی کے ساتھ گلیوں گلیوں گھوم کر لوگوں کو روک روک کر پیغام حق دیتے تھے۔ایسے شخص کو مان کر کیا لطف آتا۔آپ نے طائف کے رئیس اعظم ابن عبد یا لیل سے ملاقات کر کے اسلام کی دعوت دی اُس نے تکبر اور تمسخر سے کہا اگر آپ سچے ہیں تو مجھے آپ کے ساتھ گفتگو کی مجال نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو گفتگو