شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 23 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 23

شعب ابی طالب 23 نہیں ایسا بالکل نہیں کرنا۔اگر چہ یہ لوگ اپنی کم نصیبی کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تاہم مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی نسلوں میں ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو ایمان لائیں گے“۔( بخاری کتاب بدء الخلق ) پھر آپ نے دعا کی اللهم اهد قومی فانهم لا يعلمون اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ جانتے نہیں ( کہ میری بات سے انکار کر کے وہ کس عذاب کو دعوت دے رہے ہیں ) آں ترحمها که خلق از دے بدید کس دیده در جہاں از مادری آپ کی رحمت و ہمدردی کے نظارے جو مخلوق خدا نے دیکھے ایسے لطف وکرم کے نظارے کسی نے دنیا میں اپنی ماں میں بھی نہ دیکھے ہوں گے۔طائف شہر کے لوگ تھک ہار کر واپس جاچکے تھے آپ کو انگوروں کے باغ میں درخت کا سایہ میسر آیا وہیں رُک کر اللہ تعالیٰ کے حضور بڑی عاجزی سے دعا کی۔اے میرے رب ! میں تیرے ہی پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے۔تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے ادھر ادھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں۔تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔میں تیرے چہرے کی روشنی میں پناہ چاہتا