شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 16
شعب ابی طالب 16 اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی اچھی بیویاں دی ہیں پھر بھی آپ اُس ضعیف العمر مرحومہ بیوی کا ذکر کرتے رہتے ہیں گویا دنیا میں صرف ایک وہی عورت پیدا ہوئی تھیں“۔آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ سارا زمانہ آ گیا جس میں دُکھ اور تکلیفیں تھیں سب بزرگ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ایک غمگسار بیوی ہی سارے غم بانٹتی تھی آپ نے پر درد لہجے میں فرمایا۔خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے خدیجہ کے بدلے اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی وہ مجھ پر ایمان لائی جبکہ اوروں نے کفر کیا اُس نے میری تصدیق کی جب دوسروں نے مجھے جھٹلایا۔اُس نے اپنے مال سے میری غم خورای کی جبکہ لوگوں نے مجھے محروم کیا اور خدا تعالیٰ نے اُس کے بطن سے مجھے اولا ذبخشی جبکہ دوسری ازواج کو اس سے محروم رکھا۔(اسد الغابه جلد ۵ صفحه نمبر ۴۳۸، استیعاب جلد ۲ صفحه ۷۴۱) حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی آپ کی طرح خدمت خلق اور صلہ رحمی کا بہت شوق تھا اس ہم مزاجی کی وجہ سے حضور آپ سے مشورہ کر کے خوش ہوتے۔حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ آئیں اور آنحضور سے قحط اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔آنحضور نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور باہم رضامندی سے رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور مال سے لدا ہوا ایک اونٹ تحفہ دیا۔(طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ نمبر ۱۱۳، بیروت ۱۹۶۰) اس طرح آنحضور اور حضرت خدیجہ کو ثوبیہ کا بہت خیال رہتا وجہ یہ تھی کہ آپ کو ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے کچھ دن دودھ پلایا تھا۔حضرت خدیجہ تو چاہتی تھیں کہ اُسے خرید کر آزاد کر دیں مگر ابولہب نہ مانا۔جب حضور مدینہ تشریف لے گئے تو ابولہب نے انہیں آزاد کر دیا۔حضور ہجرت کے بعد بھی اُن کا خیال رکھتے تھے۔طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ نمبر ۱۰۹۔بیروت ۱۹۶۰)