شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 17
شعب ابی طالب 17 حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد رسول کریم سنی ہیں یہ ہم ایک دفعہ اپنے گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ آپ سے ملنے کیلئے آئیں اور دروازے پر کھڑے ہوکر انہوں نے کہا کیا میں اندر آ سکتی ہوں ؟ ہالہ کی آواز چونکہ اپنی بہن حضرت خدیجہ سے بہت کچھ ملتی جلتی تھی اس لئے اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم کے دل میں حضرت خدیجہ کی یاد تازہ ہو گئی اور آپ بے تاب ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا۔آہ مرے خدا! یہ تو خدیجہ کی آواز معلوم ہوتی ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ نمبر ۲۷) حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بھی حضور جب کبھی گھر میں کوئی بکرا ذبح کرواتے تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو ضرور بھجواتے۔( بخاری کتاب الادب باب حسن العهد من الایمان ) جنگ بدر میں جب رسول کریم صلی یا یتیم کے داما دابو العاص جو ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے قید ہو کر آئے تو آپ کی صاحبزادی حضرت زینب نے جو ابھی مکہ ہی میں تھیں اُن کے فدیہ کے طور پر اپنے گلے کا ہارا تارک بھیج دیا۔یہ وہ ہارتھا جو حضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا تھا رسول کریم نے اُس ہار کو دیکھا تو آپ کو حضرت خدیجہ یاد آگئیں اور آپ کی آنکھوں میں آنسوں ڈبڈبا آئے پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا اگر تم چاہو تو خدیجہ کی یہ یادگار اس کی بیٹی کے پاس محفوظ رہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ نمبر ۲۶ ، صحیح مسلم جلد ۲ صفحہ نمبر ۳۳۳)