شرح القصیدہ — Page 59
شرح القصيده ۵۹ مجد واعظم اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل 66 ہے۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ “ الحکم مؤرخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۱و۲) اشجع الشُّجَعَانِ۔آپ کی بعد از بعثت ۲۳ سالہ زندگی کی ایک ایک ساعت اور ایک ایک لمحہ آپ کی بے نظیر شجاعت کی دلیل ہے۔میں یہاں آپ کی شجاعت کا ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں۔غزوہ حنین میں ایک ایسا وقت آیا جبکہ اسلامی لشکر جو بارہ ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا بے تحا شا میدانِ جنگ سے بھاگ پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی میدانِ جنگ میں رہ گئے اور دشمن بے تحاشا تیر برسا رہا تھا۔اس اثناء میں حضرت ابو بکر نے اپنی سواری سے اتر کر آپ کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر کے لئے آپ پیچھے ہٹ جائیں یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے۔آپ نے فرمایا۔ابوبکر ! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور خچر کو ایڑ لگاتے ہوئے اُس تنگ راستہ میں آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے دشمن کے تیرانداز تیر برسا رہے تھے۔اس دہشت خیز اور ہولناک حالت میں آپ فرما رہے تھے۔انا النبي لا گنب انا ابن عبد المطلب