شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 58 of 198

شرح القصیدہ — Page 58

شرح القصيده ۵۸ سب میں اول درجہ انبیاء علیہم السلام کے گروہ کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل وقتاً فوقتاً جس قدر انبیاء آئے وہ خاص قوم یا خاص ملک کے لئے ہی آتے رہے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اقوام اور تمام ممالک کے لئے مبعوث ہوئے۔اس لئے آپ کے سوا کوئی بھی یہ نہ کہہ سکا کہ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) کیونکہ اس اعلان کا مطلب دنیا کی تمام اقوام اور تمام مذاہب کو چیلنج کرنا تھا اور انہیں وہ کامل اور زبر دست قوت نہیں دی گئی تھی جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھی۔یہ منصب شان و شوکت اور یہ مقام عظمت و جلال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو نہ ملا اور جو کامیابی آپ کو حاصل ہوئی وہ کسی کو بھی حاصل نہ ہوئی۔سیدنا حضرت احمد علیہ السلام اپنے محبوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وو وہ ایک خارستان تھا جس میں نبی کریم نے قدم رکھا اور ظلمت کی انتہا ہو چکی تھی۔میرا مذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اُس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ ہرگز نہ کر سکتے۔اُن میں وہ دل اور وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو ملی تھی۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔میں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت گل انبیاء پر میرے ایمان کا