شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 60 of 198

شرح القصیدہ — Page 60

شرح القصيده میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔میں عبد المطلب کا پوتا ہوں۔ایسے وقت میں کہ دشمن کا پلہ بھاری ہو اور اس کی فتح کا منظر سامنے تو بڑے بڑے بہادروں کے بھی اوسان خطا اور پتہ پانی ہو جاتا ہے۔اس کے لئے موت ہی خطر ناک نہیں ہوتی بلکہ زندگی موت سے بھی زیادہ خطر ناک ہو جاتی ہے۔وہ یہی چاہتا ہے کہ دشمن کے ہاتھ نہ آئے اور کسی طرح میدان سے سلامت نکل جائے۔وہ دشمن کے ہاتھ آجانے کو موت سے بڑھ کر مصیبت خیز جانتا ہے۔دوسری عالمگیر جنگ میں جب روسی فوجیں برلن میں داخل ہو گئیں تو ہٹلر نے خود کشی کر لی تھی اور علی محمد باب کو جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ وہ قتل کیا جائے گا تو اس نے اپنے دوستوں سے کہا کہ کل یہ لوگ مجھے نہایت بے عزتی سے قتل کریں گے اس لئے تم میں سے کوئی شخص مجھے قتل کر دے کیونکہ میں بہ نسبت دشمنوں کے ہاتھ سے قتل ہونے کے دوستوں کے ہاتھ سے قتل ہونے کو پسند کرتا ہوں۔لیکن برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی نہیں کہ میدان سے ہٹنا گوارا نہیں فرمایا اور آگے سے آگے ہی بڑھتے رہے بلکہ رجز خوانی بھی فرماتے جاتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا آپ دشمنوں پر یہ واضح فرما دینا چاہتے تھے کہ یہ خیال نہ کرنا کہ مسلمانوں کے لشکر کا پیچھے ہٹ جانا میرے دعوائی مبوّت کے صحیح نہ ہونے کی دلیل ہے۔میں یقیناً نبی ہوں اور ضرور کامیاب ہوں گا اور اسلامی لشکر کا پیچھے ہٹ جانا ایک عارضی امر ہے۔آخر غلبہ اُسی کو حاصل ہوگا اور میرا دشمن کے اتنے بڑے لشکر میں تنِ تنہا اقدام انسانی شجاعت سے خواہ کتناہی بالا نظر آئے اور پھر اس ہولناک