شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 38 of 198

شرح القصیدہ — Page 38

شرح القصيده ۳۸ يَا عَيْنَ فَيْضِ اللَّهِ وَ الْعِرْفَانِ يسعى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظُّمان اس شعر میں جو قصیدہ کا مطلع ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بے نظیر کمال کا ذکر پایا جاتا ہے۔جس طرح دنیا میں مصفا پانی چشموں سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح فیض روحانی اور برکات آسمانی اور عرفانِ الہی حاصل کرنے کا سر چشمہ اور منبع آپ کی ذات ستودہ صفات ہے۔اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپ کی بعثت کے وقت وو دنیا شرک اور بت پرستی سے بھری ہوئی تھی۔کوئی پتھر کی پوجا کرتا تھا اور کوئی آگ کی پرستش میں مشغول تھا اور کوئی سورج کے آگے ہاتھ جوڑتا تھا۔کوئی پانی کو اپنا پر میشر خیال کرتا تھا اور کوئی انسان کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔علاوہ اس کے زمین ہر قسم کے گناہ اور ظلم اور فساد سے بھری ہوئی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی موجودہ حالت کے بارے میں قرآن شریف میں خود گواہی دی ہے اور فرماتا ہے ظهَر الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم : ۴۲)۔یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور خشک زمین بھی بگڑ گئی۔مطلب یہ کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب آسمانی تھی وہ بھی بگڑ گئی اور جن کے ہاتھ کتاب آسمانی نہیں تھی اور خشک جنگل کی طرح تھے وہ بھی بگڑ گئے۔اور یہ امر ایک ایسا سچا واقعہ ہے کہ ہر ایک ملک کی تاریخ اس پر گواہ ناطق ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۷۹)