شرح القصیدہ — Page 37
شرح القصيده ۳۷ ”اے امرئ القیس ! تو ان بستیوں میں جو محبوب کی بستیاں ہیں ذرا ٹھہر جا جنہیں زمانہ نے مٹایا تو نہیں البتہ ہواؤں اور بارش نے ان کی حالت تبدیل کر دی ہے۔“ اسی طرح کعب بن زہیر نے جو قصیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کہا جو بَانَتْ سُعاد‘ کے نام سے مشہور ہے اس میں انہوں نے پہلے سُعاد کی جدائی اور اس کی ظاہری خوبصورتی اور اس کے سفر اور سوار یوں وغیرہ کے وصف بیان کر کے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی ہے۔اور علامہ محمد البوصیری رحمہ اللہ کا مشہور قصیدہ بردہ اس طرح شروع ہوتا ہے۔أَمِنْ تَذَكُرِ جِيرَانٍ بِذِى سَلَم مَزَجْتَ دَمْعًا جَرَى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمٍ ام هَبَّتِ الرِّيحُ مِنْ تِلْقَاءِ كَاظِمَةِ أَوْ أَوْ مَضَ الْبَرْقُ فِي الْظُّلُمَاءِ مِنْ إِضَمِ کیا ذی سلم کے ہمسائیوں (یعنی اہل مدینہ ) کی یاد سے تو نے آنسوؤں کو جو تیری آنکھوں سے رواں ہیں خون سے ملا دیا ہے یا مدینہ منورہ کی طرف سے ہوا چلی ہے یا اندھیری رات میں اضم پہاڑ سے بجلی چمکی ہے جس نے تجھے محبوب کی یاد دلائی ہے۔“ لیکن مصنف قصیدہ کی جذب محبت کا یہ عالم ہے کہ گویا آپ کا محبوب ہر گھڑی آپ کے رو برو موجود ہے اور آپ بغیر تشبیب کے اُسے مخاطب کر کے اس کی مدح میں یوں رطب اللسان ہیں۔