شرح القصیدہ — Page 166
شرح القصيده ۱۶۶ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اُن کی قوم نے کہا ہم بھی شہادت دیتے ہیں کہ سوائے اللہ کے کوئی حقیقی معبود نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے بندے اور رسول ہیں۔اور ہم تم کو اپنا برگزیدہ اور سردار تسلیم 66 کرتے ہیں۔اس طرح وہ اسلام پر ثابت قدم ہو گئے۔“ ( ترجمه تاریخ طبری جلد اول حصہ چہارم صفحه ۹۴، ۹۵ مطبوعہ حیدرآباد دکن ) اس تاریخی واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتدین نے اپنے ارتداد کی وجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پا جانا قرار دیا تھا۔اور ان کی یہ وجہ آپ سے پہلے تمام نبیوں کی وفات پیش کر کے رڈ کی گئی اور ظاہر ہے کہ یہ دلیل صرف اسی صورت میں درست ہو سکتی تھی جب کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے گل نبیوں کی وفات تسلیم کی جاتی۔اگر ایک کو بھی وفات یافتہ نہ مانا جا تا تو پھر یہ دلیل درست نہ رہتی۔پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا اس امر پر کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں لیکن بعد میں جب مسلمانوں کو پے در پے فتوحات ہوئیں اور عیسائی جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے اور اُن کی تربیت دینی کما حقہ نہ ہو سکی تو اُن کے ذریعہ مسلمانوں میں وہ خیالات پھیلنے شروع ہو گئے جو وہ اسلام لانے سے پہلے رکھتے تھے۔اور چونکہ عیسائی اور یہودی اہلِ کتاب اور اہلِ علم سمجھے جاتے تھے اُن کے ایمان لے آنے پر عام مسلمان اُن کی باتوں کو توجہ سے سننے لگے اور آہستہ آہستہ قرآن مجید کی آیتوں کا مطلب ان کے خیالات کے مطابق لیا جانے لگا۔چنانچہ تفاسیر میں وہب بن منبہ سے آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى کی تفسیر کی ذیل میں یہ قول نقل کیا ہے۔