شرح القصیدہ — Page 167
شرح القصيده ۱۶۷ اما تهُ اللهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ رَفَعَهُ۔66 کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو تین دن تک وفات دی ، پھر انہیں زندہ کیا، پھر انہیں اٹھا لیا۔“ اسی طرح سعید بن المسیب نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے۔رُفِعَ عِيسَى وَ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَ ثَلَاثِينَ سَنَةً رَفَعَهُ اللهُ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ۔(فتح البیان تفسیر ال عمران آیت ۵۶) کہ عیسی تینتیس سال کی عمر میں اُٹھائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے اُن کا رفع کیا۔اِن دونوں قولوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ موجودہ اناجیل میں بالصراحت موجود ہے ( دیکھو مرقس باب ۴۵ ولوقا باب ۲۴ ورسولوں کے اعمال باب۱) اور صاحب تفسیر فتح البیان بحوالہ زاد المعاد مؤلفہ ابن القیم یہ لکھ کر کہ یہ جو کہا جاتا بيلكو ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے اس کے متعلق کوئی صحیح روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں۔تحریر فرماتے ہیں کہ امام شامی نے کہا ہے :۔" وَ هُوَ كَمَا قَالَ فَإِنَّ ذلِكَ إِنَّمَا يُرْوَى عَنِ النَّصَارَى وَ الْمُصَرَّحُ بِه فِي الْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ أَنَّهُ رُفِعَ وَ هُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَ عِشْرِينَ سنة (فتح البيان تفسير سورة آل عمران آیت نمبر ۵۶) کہ امام ابن قیم کی بات درست ہے کیونکہ یہ بیان عیسائیوں کا ہے