شرح القصیدہ — Page 70
شرح القصيده -۔ظَهَرَت عَلَيْهِمْ بَيِّنَاتُ رَسُولِهِمْ فَتَمَزَّقَ الْأَهْوَاء الْأَهْوَاء كَالْأَوْثَانِ معانی الالفاظ۔الروقان - وذن کی جمع ہے۔بت۔الوَثْنِی - بُت پرست۔بينات - بینة کی جمع ہے۔روشن دلیل اور حجت۔ترجمہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے واضح دلائل اُن پر ظاہر ہوئے تو ان کی خواہشات بنوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔شرح۔قبولیت حق کے راستہ میں سب سے بڑی روک انسان کی مقامِ انسانیت سے گرانے والی خواہشیں اور ارادے ہوتے ہیں اور وہ اُن کی ایسی ہی پرستش کرتا ہے جیسے بت پرست بنوں کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوْهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا - أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (الفرقان : ۴۵٫۴۴) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کر کے جو اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں فرماتا ہے کہ ان میں سے اکثر انسانی امتیاز کھو بیٹھے ہیں۔نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں وہ تو محض چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر۔