شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 69 of 198

شرح القصیدہ — Page 69

شرح القصيده ۶۹ کو موت آتی ہے اور پھر دُعا سے ہم از سر نو زندہ ہو جاتے ہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۴) غرض صحابہ نے اسلام کی خاطر اپنے مالوں اور جائیدادوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور جب ہجرت کے لئے حکم ملا تو اپنے تمام رشتہ داروں اور مادی مفاد سے بے پرواہ ہوکر اپنے وطن چھوڑ دیئے۔حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مالدار تاجر تھے اور مکہ مکرمہ کے باحیثیت آدمیوں میں سے سمجھے جاتے تھے مگر باوجود اس کے کہ وہ مالدار بھی تھے اور آزاد بھی ہو چکے تھے قریش ان کو مار مار کر بے ہوش کر دیتے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے تو حضرت صہیب نے بھی چاہا کہ ہجرت کر کے مدینہ کو چلے جائیں۔مگر اہلِ مکہ نے ان کو روکا اور کہا کہ جو دولت تم نے مکہ میں کمائی ہے تم اسے مکہ سے باہر نہیں لے جا سکتے۔ہم تمہیں مکہ سے نہیں جانے دیں گے۔صہیب نے کہا اگر میں یہ سب دولت چھوڑ دوں تو کیا پھر تم مجھے جانے دو گے؟ وہ اس بات پر رضامند ہو گئے اور آپ اپنی ساری دولت مکہ والوں کے سپر د کر کے خالی ہاتھ مدینہ چلے گئے اور رسول کریم اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا۔صہیب ! تمہارا یہ سودا سب پہلے سودوں سے نفع مند ہوا۔یعنی پہلے اسباب کے مقابلہ میں تم روپیہ حاصل کیا کرتے تھے مگر اب روپیہ کے مقابلہ میں تم نے ایمان حاصل کیا ہے۔(اسد الغابة - صهيب بن سنان )