شرح القصیدہ — Page 43
شرح القصيده ۴۳ ان آیات سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے سب دروازے بند ہو گئے ،صرف ایک ہی دروازہ کھلا ہے جو محمدی دروازہ ہے اور تمام روحانی چشمے خشک ہو گئے۔صرف ایک ہی چشمہ جاری ہے جو کبھی خشک نہ ہوگا اور وہ محمدی چشمہ ہے۔اس لئے حضرت احمد علیہ السلام مصنف قصیدہ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اپنے اس قصیدہ کے مطلع میں فرمایا کہ چونکہ آسمانی فیض اور روحانی معرفت حاصل کرنے کا آپ کے سوا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا اس لئے آپ ہی اللہ تعالیٰ کے فیض اور عرفان کا سر چشمہ ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت ومعرفت کے پیاسے اور اس محبوب از لی کی جستجو میں سرگردان و پریشان ہیں وہ سخت پیاسے کی طرح انتہائی اشتیاق سے آپ کا قصد کرتے اور بڑی تیزی سے آپ کی طرف دوڑتے ہیں تا جلد سے جلد آپ تک جو چشمہ فیض و عرفانِ الہی ہیں پہنچ جائیں اور جی بھر کر پیاس بجھا ئیں اور سیراب ہو جا ئیں۔- يا بحر فَضْلِ الْمُنْعِمِ الْمَثَّانِ تهوى إِلَيْكَ الرُّمَرُ بِالْكِيزَانِ معانى الالفاظ - البخرُ : سمندر، ہر بڑا دریا اور نہر۔اس کی جمع آنجر اور بحور اور بخار ہے۔