شرح القصیدہ — Page 44
شرح القصيده ۴۴ الْمَنَّانُ : كَثِيرُ الْمَنِ وَ الْإِحْسَانِ - الْمَنُ ہر ایک چیز جو بطور انعام دی جائے۔یعنی بہت احسان کرنے والا اور بہت انعام دینے والا۔تَهْوى : هَوَ تِ النَّاقَةُ بِرَاكِبھا کے معنے ہیں اونٹنی سوار کو تیزی سے لے گئی۔هَوَی النھی وہ چیز بلندی سے نیچے کو گری۔هَوى في الْأَرْضِ زمین میں سفر کیا۔الؤُمَرُ : زُمْرَةٌ کی جمع ہے جس کے معنے جماعت اور فوج کے ہیں۔الْكِيزَانِ : كُوز کی جمع ہے۔گوزے۔ترجمہ۔اے منعم ومنان خدائے تعالیٰ کے فضل کے سمندر ! لوگ فوج در فوج گوزے لئے تیزی سے تیری طرف آ رہے ہیں۔شرح۔پہلے شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائی حالت کے لحاظ سے چشمہ قرار دیا تھا۔اور چشمہ ایک چھوٹی سی جگہ میں بھی ہو سکتا ہے جس سے ایک وقت میں تھوڑے سے آدمی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور اس دوسرے شعر میں حضور کی وسعت دعوت کو ملحوظ رکھ کر سمندر کہا ہے۔مطلب یہ ہے کہ حضور کی فیض رسانی چشمہ کی فیض رسانی کی طرح محدود نہیں بلکہ سمندر کی طرح وسیع ہے۔جس طرح سمندر سے بیک وقت گروہ در گروہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں