شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 86 of 198

شرح القصیدہ — Page 86

شرح القصيده ۸۶ اسی طرح باغ اسلام کا ایک اور لذیذ پھل حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔حمص اور شام کے دوسرے شہروں کو جب مرکز کے حکم سے مسلمان فوج خالی کر کے دوسرے محاذ پر جانے لگی تو حضرت ابو عبیدہ نے عیسائیوں کے سرداروں کو بلوا کر کہا چونکہ اب ہم آپ کی حفاظت نہیں کر سکیں گے اس لئے آپ سے جو سال کا جزیہ لیا گیا تھا وہ آپ کو واپس کیا جاتا ہے۔اس حسن معاملکی کو دیکھ کر اس علاقہ کے عیسائی زار زار روئے اور کہا ایسا سلوک تو ہم نے اپنی ہم مذہب حکومت سے بھی نہیں دیکھا۔اور دعائیں دینے لگے کہ آپ پھر واپس آئیں۔الغرض باغ اسلام کے پھل ایسے لذیذ اور خوش ذائقہ تھے کہ وہ آپ ہی اپنی نظیر تھے۔-٣٣ عَادَتْ بِلادُ الْعُرْبِ نَحْوَ نَضَارَةٍ بعْدَ الْوَجْى وَ الْمَحْلِ وَ الْخُسْرَانِ معانى الالفاظ - الْعُزبُ وَالْعَرَبُ۔ان کی جمع آغرُبُ و عُرُوبٌ ہے۔بحر احمر کے مشرق میں جزیرہ نما علاقہ کے رہنے والے لوگ۔نَضَارَةٌ۔حسن و جمال ، رونق و تر و تازگی ، دولت وغنا۔الو جی بکثرت ننگے پاؤں چلنے سے پاؤں کا گھس جانا۔الو جی : بے نفع اور بے خیر۔ابن السکیت کہتے ہیں کہ وجا یہ ہے کہ اونٹ اپنے پاؤں کے اندر اور گھوڑا اپنے گھر کے اندر در دمحسوس کرے (لسان العرب) الْمَحْلُ : قحط ، خشک سالی - رَجُل عمل : بے فیض اور بے نفع شخص۔