شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 87 of 198

شرح القصیدہ — Page 87

شرح القصيده ۸۷ الخسران : نقصان ہلاکت ، نا کامی ، ضلالت ، تباہی۔ترجمہ۔عرب کے شہروں میں پھر حسن و بہار اور رونق و تر و تازگی آگئی خستہ حالی و خشک سالی اور تباہی و ویرانی کے بعد۔شرح۔عرب قوم کے شہر جو دیرانی و قحط اور خشک سالی کا منظر پیش کر رہے تھے اور ایسے خستہ حال تھے کہ اُن سے کسی فائدہ یا بھلائی کی توقع نہ رہی تھی۔ذلّت اور نحوست کے بادل اُن پر چھائے ہوئے تھے۔تباہی اور ہلاکت ہر گھڑی اُن پر منڈلا رہی تھی۔لیکن اے بارانِ رحمت ! تیری آمد سے اُن کی خشک سالی دُور ہو گئی۔خشکی کی جگہ تر و تازگی نے لے لی۔ذلّت و نحوست جاتی رہی۔بیابان گلستان میں تبدیل ہو گئے۔ریگستان مرغزار بن گئے۔ویران جگہیں آباد ہوگئیں اور ہر طرف چہل پہل ، بہار اور رونق نظر آنے لگی۔-۲۴- كَانَ الْحِجَارُ مَغَازِلَ الْغِزْلَانِ فَجَعَلْعَهُمْ فَانِينَ فِي الرَّحْمَانِ معانی الالفاظ - مَغَازِلُ - غَازَل سے اسم ظرف ہے۔غازل الْمَرْأَةُ عورت سے دل لگی اور محبت و عشق کی باتیں کیں۔الغزل : عورت سے خوش وقت ہونا اور خوش طبعی کی باتیں کرنا۔غزلان : غزال کی جمع ہے۔ہرن۔ترجمہ۔اہلِ حجاز جو خو بصورت عورتوں سے بے محابا عشق بازی میں محو