شرح القصیدہ — Page 85
شرح القصيده ۸۵ چشمے خوشگوار اور شیریں اور درختوں کی شاخیں پھلدار ہوں۔شرح۔اس شعر میں اہلِ عرب کی اس حالت کو جو اسلام سے پہلے تھی ایک بیابان بے آب و گیاہ سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں یہی نہیں کہ کوئی دلکشی و دلچسپی اور امن و آرام کی جگہ پائی نہیں جاتی بلکہ ہر طرف مصیبت ہی مصیبت اور ہلاکت ہی ہلاکت نظر آتی ہے۔نہ کھانے کو غذ امل سکتی ہے، نہ پینے کو پانی اور نہ ٹھہرنے کو سایہ۔لیکن حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے پر وہ دہشت انگیز بیابان ایک ایسے دلکش و فرحت خیز باغ میں تبدیل ہو گیا جس میں نہایت صاف وشفاف پانی کی نہریں جاری ہوں۔جس کے سرسبز و شاداب درختوں میں ایسی کشش ہو کہ دل بے اختیار اس کی طرف بھیجیں اور اس کے پھولوں میں ایسی مہک اور پھلوں میں ایسا ذائقہ ہو کہ مشامِ جان اس سے معطر اور کام و زبان وہ لذت پائیں جس کی نظیر نہ مل سکے۔باغ اسلام کا ایک لذیذ پھل حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔بیت المقدس کے پادریوں کی درخواست پر جب آپ کنیسہ القیامۃ میں جو عیسائیوں کا سب سے بڑا قابل تعظیم گر جا ہے تشریف لے گئے اور نماز کا وقت آگیا تو پادریوں نے درخواست کی کہ یہیں گرجے میں نماز ادا کر لیں تو آپ نے اس بناء پر انکار کر دیا کہ اگر میں نے یہاں نماز پڑھی تو ممکن ہے آئندہ آنے والے مسلمان اس بہانہ سے اس پر قبضہ کر کے مسجد نہ بنالیں پھر عیسائیوں کو تکلیف ہو۔پھر آپ نے گر جا سے نکل کر سیڑھیوں کے قریب نماز ادا کی جہاں چھوٹی سی مسجد بنی ہوئی ہے۔