شرح القصیدہ — Page 68
شرح القصيده ۶۸ قربانی دے کر اور اپنے وجود کو اس کے لئے وقف کر کے اور اس کی رضا میں محو ہو کر ایسے صدق اور اخلاص سے اُس کی طرف جھک جائے کہ اُس محبوب حقیقی کے سوا کوئی اُس کا نہ رہے۔اور اس کی نفسانی زندگی اور نفسانی جذبات پر موت وارد ہو جائے اور اس کے وجود کے تمام پرزے اور نفس کی تمام قوتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگ جائیں اور اُس کی ہر حرکت اور سکون اور اس کی زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے ے اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پیئے مرضی خدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اسلام کیا چیز ہے ؟ وہی جلتی ہوئی آگ جو ہماری سفلی زندگی کو بھسم کر کے اور ہمارے باطل معبودوں کو جلا کر بچے اور پاک معبود کے آگے ہماری جان اور ہمارے مال اور ہماری آبرو کی قربانی پیش کرتی ہے۔ایسے چشمہ میں داخل ہو کر ہم ایک نئی زندگی کا پانی پیتے ہیں اور ہماری تمام روحانی قوتیں خدا سے یوں پیوند پکڑتی ہیں جیسا کہ ایک رشتہ دوسرے رشتہ سے پیوند کیا جاتا ہے۔بجلی کی آگ کی طرح ایک آگ ہمارے اندر سے نکلتی ہے اور ایک آگ اُوپر سے ہم پر اُترتی ہے۔ان دونوں شعلوں کے ملنے سے ہماری تمام ہوا و ہوس اور غیر اللہ کی محبت بجسم ہو جاتی ہے اور ہم اپنی پہلی زندگی سے مرجاتے ہیں۔اس حالت کا نام قرآن شریف کی رُو سے اسلام ہے۔اسلام سے ہمارے نفسانی جذبات