شرح القصیدہ — Page 67
شرح القصيده ۶۷ نے اپنے بیٹے کا یہ عزم دیکھا تو اُس نے کھانا شروع کر دیا۔تاریخ کے صفحات ایسے واقعات سے پر ہیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی بے پایاں محبت اور انتہائی اخلاص کا ثبوت ملتا ہے۔بع دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار ١٢ قَد وَدَّعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَ نُفُوسَهُمْ و تبرَّءُوا مِنْ كُلِّ نَشَبٍ فَان معانی الالفاظ - اغراء - قوی کی جمع ہے۔ایسی چیز کی خواہش جس سے لذت حاصل ہو۔اس کا غالب استعمال مذموم خواہشات کے لئے ہوتا ہے۔نُفُوس - نَفْس کی جمع ہے اور نَفْسُ الشّيء کے معنے عینه اس چیز کی ذات کے بھی ہیں۔نشب۔ہر قسم کا مال نقد ہو یا از قبیل جائیداد۔ترجمہ۔انہوں نے اپنی خواہشات اور اپنے نفسوں کو الوداع کہہ دیا اور ہر قسم کے فانی مال اور جائیدادوں سے بیزار ہو گئے۔شرح۔اسلام اختیار کر کے انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات ہی کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی خیر باد کہ دیا۔یعنی ان کا اپنانہ کوئی ارادہ باقی رہا اور نہ کوئی خواہش۔اور حقیقی مسلمان انسان اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی راہ میں