شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 52 of 198

شرح القصیدہ — Page 52

شرح القصيده ۵۲ شرح۔جب کسی شخص سے انسان کو شدید محبت ہوتی ہے تو اُس پر اپنے محبوب کی جدائی سخت گراں گزرتی ہے۔بسا اوقات شدت آلم فراق سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔علامہ بوصیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے قصیدہ بردہ کے مطلع میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں لکھا ہے اسی حالت کا اظہار کیا ہے۔فرماتے ہیں۔أَمِنْ سَلَّم ا مِن تَذكُرِ جِيرَانٍ بِذِي مَزَجْتَ دَمْعًا جرى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَم کیا ذی سلم مقام کے ہمسائیوں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ مدینہ کی یاد میں تو اس قدر رو رہا ہے کہ تو نے آنسوؤں کو جو آنکھ سے جاری ہیں خون سے ملا دیا ہے۔اس میں کثرتِ گریہ کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ جو چیز ملائی جاتی ہے وہ تھوڑی ہوتی ہے اور جس میں ملائی جاتی ہے وہ زیادہ۔چنانچہ کہتے ہیں نمک آٹے میں ملا دیا۔اسی طرح آنسوؤں کو خون میں ملا دینے سے مراد یہ ہے کہ کثرت گریہ کی وجہ سے آنسو باقی نہیں رہے اگر کچھ رہے بھی تو وہ خون سے مل گئے اور اب تیری آنکھیں جو چیز بہا رہی ہیں وہ خون ہے۔اگر آنسوؤں کی اس میں شمولیت ہے تو برائے نام جیسے آئے میں نمک۔يَا مَن غَدًا فِي نُورِهِ وَ ضِيَائِهِ التيرينِ وَ نَورَ الْمَلَوَانِ