شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 51 of 198

شرح القصیدہ — Page 51

شرح القصيده ۵۱ يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةٌ و تَأْ ثُمَّا مِنْ لَّوْعَةِ الْهِجْرَانِ - و أرَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرِ كُرْبَةً و أَرَى الْغُرُوبَ تُسِيلُهَا الْعَيْنَانِ معانى الالفاظ - يَنكُونَ۔جمع مذکر غائب مضارع کا صیغہ ہے۔اس کی ماضی بکی ہے جس کے معنے ہیں، اس کے آنسو ہے۔صَبَابَةٌ - شوق اور شدت محبت۔لَوْعَةُ سوزِ غم اور جدائی کی جلن۔کہتے ہیں فِي قَلْبِهِ لَوْعَةٌ۔یعنی اس کے دل میں سوز اور جلن پائی جاتی ہے۔الهجران - جدائی علیحدگی۔الْحَنْجَرَةُ : الْخَلْقُوْمُ - گلا حلق ترجمہ نمبر ۵۔لوگ آپ کے جمال کی یاد میں شوق و محبت کے مارے روتے ہیں اور جدائی کی جلن اور فراق کی سوزش سے ان کے آنسو بہ رہے ہیں۔نمبر ۶۔میں دیکھتا ہوں کہ دل بے قراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں آنسو دیکھتا ہوں جنہیں آنکھیں بہا رہی ہیں۔