شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 53 of 198

شرح القصیدہ — Page 53

شرح القصيده ۵۳ معانی الالفاظ - الرئین: سورج اور چاند الملوان : تثنیہ کا صیغہ ہے اس کا مفرد ملا ہے۔رات اور دن۔ترجمہ۔اے وہ جو اپنے ٹور اور روشنی میں مہر و ماہ کی مانند ہو گیا ہے اور جس کے نور سے رات اور دن منو ر ہو گئے ہیں۔شرح۔قرآن مجید کی آیت هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءٌ وَ الْقَمَرَ نُورًا (بونس : ٢ ) میں سورج کے لئے ضیاء کا لفظ اور چاند کے لئے نُور کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس شعر میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی کمال کا ذکر ہے۔آپ چونکہ عالم روحانی کے سورج ہیں اس لئے جب کبھی دنیا میں ظلمت چھائے گی تو اس کا تدارک آپ کے ہی نور سے کیا جائے گا۔جس طرح نظامِ ظاہری میں سورج نقطۂ مرکز یہ ہے اسی طرح عالم روحانی کے نقطۂ مرکز یہ آپ ہیں۔اس لئے آپ کی دنیا میں عدم موجودگی کی حالت میں روحانی تاریکی آپ کی روشنی سے بعض ایسے وجودوں کے ذریعے دُور کی جائے گی جو آپ کے لئے بمنزلہ ماہ وانجم ہوں گے۔اللہ تعالیٰ سورۃ فرقان میں فرماتا ہے:۔تبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّبِيرًا۔(الفرقان : ۲۲) وہ خدا بہت برکت والا ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اور اُس میں