شرح القصیدہ — Page 49
شرح القصيده ۴۹ گا اور وہ اس سے ہم کلام ہوگا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آپ کے عالی شان مقام اور شریعتِ کاملہ دیے جانے کے متعلق علم دیا گیا تھا۔اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اس عظیم الشان محلی الہی کے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہونے والی تھی اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ربّ ارتي انظُرُ إِلَيْكَ “ (الاعراف : ۱۴۴) اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا یا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اس تعلیمی کی تم تاب نہیں لا سکتے۔کیونکہ وہ محلی مقام محمد آیت سے مخصوص ہے لیکن ہم اس مجتبی کو پہاڑ پر ظاہر کرتے ہیں۔اگر پہاڑ اُسے برداشت کر سکے اور اپنی جگہ پر قائم رہے تو تم بھی اس تجلی کو دیکھ سکو گے۔فَلَا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ پھر جب پہاڑ پر اس محلی کا ظہور ہوا جَعَلَهُ دَ لَّا وَ خَرٌ مُوسَى صَعِقًا (الاعراف: ۱۴۴) تو پہاڑ میں زلزلہ پیدا ہو کر وہ زمین پر آرہا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔جب ہوش میں آئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہوئے اُس کے حضور توبہ کی اور کہا وانا اَوَّلُ الْمُؤْمِنین کہ میں اُس نبی پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں جو اس عظیم الشان محلی کا مورد ہوگا۔چنانچہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس ایمان کا تذکرہ کیا ہے۔فرمایا :۔وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ۔(الاحقاف: ١١) کہ بنی اسرائیل کے ایک عظیم الشان شاہد نے شہادت دی تھی کہ