شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 50 of 198

شرح القصیدہ — Page 50

شرح القصيده اس کی مانند ایک نبی آئے گا۔پس وہ اس پر ایمان لے آیا اور تم تکبر کر رہے ہو اور ایمان نہیں لاتے۔یہی بات امام شرف الدین ابو عبد الله محمد بن السعید البوصیری رحمہ اللہ نے اپنے قَصِيدَةُ الْهَمْزِيَّةُ فِي مَدْ حِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ “ کے اس شعر میں بیان کی ہے۔مَا مَضَتْ فَتْرَةٌ مِنَ الرُّسُلِ إِلَّا بَشَرَتْ قَوْمَهَا بِكَ الْأَنْبِيَاءُ یعنی رسولوں کی فترت کا کوئی زمانہ نہیں گزرا مگر انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو تیرے آنے کی بشارت دی تھی۔“ اور آئندہ زمانہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروزی رنگ میں آنے کی خبر قرآن مجید کی آیت وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعه : ۴ ) میں دی گئی ہے۔اور اس شعر میں آپ کو بدر اس لئے کہا گیا ہے کہ آپ کی بعثت اولی گو جمالی اور جلالی دونوں رنگ کی تھی مگر اس میں زیادہ تر اسم محمد کی تلی ہوئی تھی جو جلالی نام ہے اور آپ کی بعثت ثانیہ جمالی رنگ میں ہونے والی تھی۔اور جو شخص بروزی رنگ میں آپ کے نام پر ظاہر ہونے والا تھا اُسے بدر کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔اس لئے اس شعر میں مجازی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدار قرار دیا جو سورج سے روشنی حاصل کر کے لوگوں کو منو رکرتا ہے۔اس شعر میں علم بدیع کی صنعت التفات استعمال کی گئی ہے۔پہلے مصرعہ میں ممدوح سے خطاب کیا گیا ہے اور دوسرے مصرعہ میں اس کا ذکر بصیغہ غائب کیا گیا ہے۔