شرح القصیدہ — Page 45
شرح القصيده اسی طرح حضور سے بھی۔۴۵ - يَا شَمْسَ مُلْكِ الْحُسْنِ وَ الْإِحْسَانِ نورت وجهَ الْبَر وَ الْعُمْرَانِ معانی الالفاظ - البر : خشک زمین۔جنگل اور صحرا۔مراد غیر آباد جگہیں۔العُمرَانُ : آبادی جہاں لوگ ایک نظام اور تمدن کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ترجمہ۔اے ملک حسن و احسان کے آفتاب ! تو نے غیر آباد اور آباد جگہوں کو یکساں طور پر روشن کر دیا ہے۔شرح۔اس شعر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو با عتبار فیضانِ عام کے سورج سے تشبیہ دے کر ظاہر فرمایا ہے کہ جس طرح سورج سے غیر آباد علاقے ، دشت و صحرا وغیرہ اور آباد مقامات شہر و دیہات وغیرہ روشنی پاتے ہیں بجز ان لوگوں کے جو اپنے اور سورج کے درمیان کوئی پردہ حائل کر لیں اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے جو عالم روحانی کے سورج ہیں تمام اقوامِ عالم خواہ وہ اہلِ کتاب ہوں یا غیر اہلِ کتاب مستفید ہو رہے ہیں بجز ان لوگوں کے جنہوں نے خود کوئی پردہ حائل کر لیا ہے اور جو دل کے اندھے ہیں۔وَمَن لمْ يَجْعَلِ اللهُ لَهُ نُورًا أَنا لَهُ مِن تُورٍ - اسی طرح ایک اور مقام پر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان