شرح القصیدہ — Page 189
شرح القصيده ۱۸۹ مناسبت ہے اور میری اور میرے محبوب کی مثال یک جان و دو قالب کی ہے لیکن یہ مادی قالب بھی غلبہ محبت و جوشِ عشق سے اُڑنا چاہتا ہے تا وہ اپنے محبوب کے قالب سے متحد ہو جائے۔کاش اُسے قوت پرواز حاصل ہوتی ! اسی مضمون کو آپ نے ایک فارسی قصیدہ میں یوں ادا کیا ہے۔پریدم سوئے کوئے او مدام من اگر مے داشتم بال و پرے اگر میرے پر ہوتے تو میں اُس کے گوچہ کی طرف ہمیشہ اڑتا رہتا۔حسن الختام اس قصیدہ کے آخری اشعار حسنِ خاتمہ کا بہترین نمونہ ہیں۔آپ نے ابتدائے قصیدہ میں بجائے اظہار محبت اپنے محبوب کے اوصاف عالیہ و کار ہائے جلیلہ اور کمالات کا ذکر کر کے یعنی بواعث محبت بیان کر کے آخر میں اپنی محبت غیر فانی کا ذکر فرمایا ہے اور ایسے رنگ میں قصیدہ کو ختم کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا کہ آپ کی زندگی کا ہر لحہ محبت رسول میں گزر رہا ہے اور آپ عالم محبت کی نا پیدا کنار فضاؤں اور حدود فراموش وسعتوں میں محو پرواز ہیں۔